اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ایران اور اس واقعے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے تعزیتی بیان میں تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سلامتی کونسل کے مختلف اراکین نے بھی اس دہشت گردانہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین اشٹون نے بھی زاہدان کی جامع مسجد میں ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ فعل قرار دیا ہے ۔حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی خفیہ تنظیم سی آئی اے کو اس دہشت گردانہ واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔لبنان کی مختلف مذہبی جماعتوں اور سیاسی تنظیموں نے بھی اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔لبنان کے علماء کی کونسل کے رکن شیخ مصطفی ملص نے زاہدان کی جامع مسجد میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان افراد کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو امریکی پالیسیوں کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور بلاشبہ اس طرح کے واقعات اسلام اور ایران کے خلاف امریکی دشمنیوں کو آشکار کررہے ہیں اٹلی کے وزیر خارجہ نے بھی اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے ۔متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نھیاں نے ہر قسم کی دہشت گردی سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے زاہدان کی جامع مسجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے ۔امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایسی حالت میں اس واقعے کی مذمت کی ہے کہ جب دہشت گردی کے سرغنہ عبدالمالک ریگي نے اپنے اعتراف میں واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ ان کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا حامی ہے ۔فرانس ، جرمنی ، کینیڈا سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ اور سربراہوں نے زاہدان میں ہونے والی اس غیر انسانی اور دہشت گردانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110