اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پیغمبر اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے موقع پر نظام اسلامی کے حکام و عہدیداران، تہران میں مقیم اسلامی ممالک کے سفراء اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے رہبر معظم انقلاب اسلامی، حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر معظم نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے بعثت رسول (ص) کی مناسبت سے ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کیا اور بعثت کو بہت حساس موقع اور انسانوں کی سعادت کی جانب حرکت کا آغاز اور انسان کے تاریخی و فطری مطالبات کا جواب قرار دیتے ہوئے فرمایا: بعثت رسول (ص) اور دین اسلام انسانوں کو عدل و انصاف، امن و آشتی، اور سکون اور سلامتی کا پیغام دیتا ہے اور خدا کے سچے وعدے کے مطابق اس توحیدی راستے کی آخری منزل اس کے سالکین کے لئے فلاح و رستگاری اور نصرت و کامیابی ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ، نے اسلام کے نبی مکرّم (ص) کی عید مبعث کو عدل، امن، صلح و سکون اور سلامتی کی راہیں کھول دیئے جانے کی بنا پر رحمت خداوندی کی بعثت قرار دیا اور فرمایا: سکون اور امن کے یہ راستے انسان کے اندرونی اور قلبی ماحول سے لے کر معاشرے اور بین الاقوامی فضا تک پھیلے ہوئے ہیں اور جو لوگ اسلام میں اس راستے کے مخالفین و معارضین قرار دیئے جاتے ہیں درحقیقت وہی لوگ اور وہی گروہ ہیں جو انسان کی حقیقی سعادت کے خلاف ہیں۔ رہبر معظم نے مسلمانوں کو انسانی سعادت کی معارض قوتوں کے خلاف استقامت کی دعوت دینے والی آیات کریمہ اور سیرت نبویہ (ص) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام تمام انسانوں کو واضح و روشن استدلال کے ساتھ صلح و عدل اور امن و سکون کے سائے میں سعادت آمیز زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتا ہے مگر اس راستے کے معارضین و معاندین کے سامنے فیصلہ کن اور غیر منفعلانہ مزاحمت کا حکم دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا: انسانی سعادت کے نورانی راستے کے معاندین نے پوری تاریخ میں انسانی عدل و صلح کے قیام کے لئے نہیں بلکہ اپنی طاقت میں اضافی، بے عدالتی کے فروغ اور انسانوں کا امن تہہ و بالا کرنے کی نیت سے جنگیں لڑی ہیں اور آج بھی دنیا کی مسلط اور مستکبر طاقتیں جدید ٹیکنالوجی اور ایٹمی ہتھیاروں سمیت ترقی یافتہ ہتھیاروں کے ذریعے جدت کے بھیس میں (عرب) جاہلیت کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہیں۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے استکباری طاقتوں کے ہتھیاروں اور ان کے بے انتہا فوجی اخراجات کو آج کی دنیا کا ایک غم انگیز مسئلہ قرار دیا اور فرمایا: جب تک دنیا کی باگ ڈور بڑی طاقتوں کے ہاتھ میں ہوگی دنیا میں جنگوں، ناامنیوں اور ناانصافیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ نے فرمایا: دوسری جنگ عالمی جنگ سے لے کر 1990 تک کے 45 سال کے عرصے میں صرف تین ہفتے ایسے گذرے ہیں جن میں دنیا کے کسی گوشے میں جنگ نہیں لڑی گئی اور ان جنگوں کے اسباب وہی لوگ مہیا کرتے ہیں جو دنیا میں ہتھیاروں کی پیداوار میں اول درجے پر ہیں اور اپنے جنگی سازوسامان سے حاصل ہونے والی آمدنی کمانے کے درپے ہیں جبکہ صلح و عدل کے قیام کے لئے جنگوں کا امریکی دعوی سراسر جھوٹا ہے۔ رہبر معظم نے گذشتہ برس امریکہ کے 600 ارب ڈالر کے جنگی اخراجات کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کی طرف اشارہ کتر ہوئے فرمایا: یہ اخراجات صرف افغانستان کی مسلم قوم کی سرکوبی، ملت عراق کو قابو میں رکھنے اور علاوہ ازیں مشرق وسطی کو مشتعل رکھنے کے لئے خبیث صہیونی ریاست کو مدد فراہم کرنے پر صرف ہوتے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: افسوس کا مقام ہے کہ آج [جدید جاہلیت] کا علمبردار طاغوت اس دنیا میں انسانوں پر حکمرانی کررہا ہے لیکن چونکہ یہ روش خلقت کی سنت الہیہ کی اور حق کے خلاف ہے لہذا رو بہ زوال اور نابود ہونے والی ہے اور اس کے زوال کی نشانیاں بھی ظاہر ہوگئی ہیں۔ آپ نے دنیا کے حالات کی تبدیلی اور دنیائے اسلام میں روزافزوں اسلامی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: استکباری قوتوں کے زوال کے آغاز کا ایک سبب مسلمانوں کی اسلامی بیداری (نشأت ثانیہ) ہے جس کی وجہ سے ان قوتوں میں ماضی جیسی طاقت نہیں رہی ہے اور امریکہ کے حال کا اس کے ماضی سے موازنہ اسی حقیقت کا گواہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان پہلے سے زیادہ اتحاد کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس جگہ بھی اسلامی بیداری زیادہ ہوتی ہے توحید اور انسانیت کی سعادت کے راستے کے معارضین و معاندین وہاں زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اسی بنا پر آج اسلامی جمہوریہ ایران کے خلافت عداوتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کو مسلمان ملتوں کی بیداری، اتحاد اور عزت و عظمت کا علمبردار قرار دیا اور فرمایا: 31 برس ہوئے کہ استکباری طاقتیں اسلامی نظام کے خلاف سازشیں کررہی ہیں اور 31 برس ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اللہ کے فضل سے ان تمام سازشوں اور دشمنیوں کے باوجود زیادہ طاقتور اور زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا: یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا اور خداوند متعال کا سچا وعدہ باطل کا زوال اورنابودی ہے؛ دشمنیوں اور عداوتوں میں جتنا بھی اضافہ ہوگا عالم اسلام کی مسلم عوام اپنے آپ کو بہتر و بیشتر پالیں گی (اور اپنی قوت کو بہتر سمجھیں گی) تا ہم اسلامی حکومتوں اور مسلم عوام کو بھی زیادہ سے زیادہ خوداعتمادی کی ضرورت ہے اور انہیں مستکبر طاقتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے؛ کیونکہ ان (مستکبر طاقتوں) کی طاقت جعلی، غیرحقیقی اور روبہ زوال ہے۔ اس موقع پر صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر احمدی نژاد نے عید مبعث کی مناسبت سے رہبر معظم اور مہمانوں کو ہدیۂ تبریک پیش کیا اور کہا: بعثت کا ہدف و مقصد انسانی فطرت پر منطبق دین حنیف کی طرف دعوت اور انسانیت کی نجات ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کا پیغام خدا کی بندگی، کلمۂ توحید، عدل و انصاف کا قیام اور طاغوتوں اور شیطانوں کے سامنے ڈٹ جانا ہے اور اس کا نتیجہ انسان کی فلاح اور رستگاری ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ نے انسانی فطرتوں کی بیداری سے شیطانی قوتوں کے بڑھتے ہوئے خوف و ہراس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جس طرح کہ خداوند متعال نے وعدہ کیا ہے صالحین زمین کے وارث بن کر رہیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کا شجرآپ (ص) کے فرزند ارجمند حضرت حجت بن الحسن (عج) کی امامت میں بارآور اور پرثمر ہوگا۔ .........../110
تصویری رپورٹ: