17 ستمبر 2010 - 19:30

پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ داتا دربار پر دہشتگردی کے حملے جتنے قابل مذمت ہیں اتنے ہی پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے بیانات بھی قابل مذمت ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ وفاقی حکومت کی طرف سے انٹیلی جنس شیئرنگ ٹھوس ہونی چاہئے۔انھوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کامعاملہ قومی سطح پر ہی طے ہوسکتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں اوران کے کارکنوں پر حکومت کی کڑی نظر ہے۔پاکستان خصوصا صوبہ پنجاب کے مرکز لاہور کے دل داتا دربار میں ہونے بم دھماکے کے بعد مکز کی حکمراں جماعت پپلز پارٹی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کے درمیان جو چپقلش کو عوامی اور مذھبی حلقے نورا کشتی سے تعبیر کرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکمراں طبقے کو عوامی مسائل سے زیادہ اپنے اور پارٹی مفادات کی فکر ہے ۔البتہ اس بحث میں پڑے بغیر کہ پارٹی مفادات کیا ہیں اور الزام تراشی میں کتنی حقیقت ہے، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے ان کے اس بیان کی روشنی میں کہ حکومت پنجاب کالعدم تنظیموں اوران کے کارکنوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے  سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت نظر رکھے ہوئے ہے تو پھر انہیں دہشت گردی کا موقع کیوں دیا جارہا ہے ? اس نوعیت کا سوال حکمراں جماعت پپلز پارٹی کے وزیر داخلہ رحمان ملک سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ  پنجاب حکومت نے اپنے مراسم کی بنا پر دہشت گردوں کو چھوٹ دے رکھی ہے  دیگر صوبوں میں دہشتگردوں کو نام بدل بدل کر کام کرنے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے ، صوبہ سندھ کے مرکز کراچی اور بلوچستان کے مرکز کوئٹہ میں جو دہشت گردانہ واقعات اور خودکش حملے ہوتے رہے ہیں ان کی بابت رحمان ملک کی جماعت کیوں خاموش ہے ۔مسلم لیگ ن کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے کالعدم جماعتوں کے ساتھ مراسم سب پر عیاں ہیں اور انہوں نے ان الزمات کی کھبی تردید بھی نہیں کی ہے جبکہ طالبان کے ساتھ ان کی جماعت اور قائدین کی ہمدردیاں اب واضح ہوگئی ہیں۔سیاسی امر کے ماہر ایک تبصرہ نگار کے مطابق طالبان جیسے سفاک اور دین کے نام پر دینی بھائیوں کو باقاعدہ ذبح کرنے والوں سے بار بار مذاکرات کی رٹ لگاکر دراصل مسلم لیگ نون جنوبی پنجاب میں اپنا ووٹ بنک محفوظ کرنا چاہتی ہے ۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بعد مسلم لیگ نون کی ایک اور سرکردہ شخصیت رانا ثنااللہ کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھنے ضرورت ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے ان کی حریف جماعت پپلز پارٹی نے بھی اپنے پیش نظر رکھا ہوا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔

/110