ہالینڈ،جرمنی،فرانس اور انگلینڈ کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں پاکستان اور انڈیا سے تارکینِ وطن کی زیادہ  تعداد 70اور 80 کی دھائی میں آکر یہاں آباد ہوئی۔آ ج ان کی دوسری نسل ماشاللہ جوان ہے اور بیشترصاحبِ اولادبھی ہیں تیسری نسل بھی بچوں کی شکل میں موجود ہے۔یورپ کے بڑے بڑے تقریبا تمام شہروں میں اب مساجد ،امام بارگاہ کے علاوہ کلچر سینٹر قائم ہیں۔70اور 80 کی دھائی میں یہاں آ کر آباد ہونے والوں نے اپنے مالی وسائل کی کمی کے باوجود اپنا فریضہ تقریباً ادا کر دیا ہے اب آج کی نوجوان نسل کا فرض ہے کی وہ اس دیارِ غیر میں اپنے ان مراکز کی حفاظت کریں اور انھیں آباد رکھیں۔ہالینڈ کے شہرایمسٹرڈیم میں پاکستانی بڑی تعداد میں آباد ہیں،مجالس و محافل کا سلسلہ تو یہاں بھی 70 کی دھائی سے چل رہا ہے مگر ان کے پاس اپنا کوئی سینٹر نہیں تھا وہ یہ پروگرام کرائے کے ہال میں کرتے تھے۔ تنظیم کے موجودہ صدرجناب وقار بخاری صاحب کا مجھے فون آیا کہ انھوں نے اپنی تنظیم کے اراکین کے ساتھ ملکر ایک جگہ جو تقریباً 1500مربع میٹر ہے، دیکھی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہاں حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کا جشنِ ولادت اسی ہال میں منائیں تا کہ مؤمنین وہ ہال دیکھ لیں اور مومنین کی رائے بھی معلوم ہو جائے۔وقار صاحب نے بتایا کہ اس مبارک محفل سے خطاب کےلئے انگلینڈ سے خطیبِ آلِ محمد جناب ارشد ترابی صاحب تشریف لارہے رہیں اور شاعر کی حیثیت سے بخاری صاحب نے مجھے بھی شرکت کی دعوت دی۔اس عمارت میں پہلے کوئی ریسٹورنٹ تھا اور اسی لحاظ سے وہاں دیواروں پر تصاویر لگی ہوئی تھیں جنہیں دیکھ کر ارشد ترابی صاحب نے اپنی تقریر کے دوران برجستہ کہا کہ مومنین ان تصویروں سے اندازہ لگائیں کہ فتحِ مکّہ سےقبل خانہ کعبہ میں بھی اسی طرح بتوں کی شکل میں یہ سب موجود تھا جسے حق کے ولی نے صاف کر دیا، اُسی طرح ذکرِ محمد و آلِ محمد (ص) اس بلڈنگ کو بھی پاک و طاہر کر دے گا۔محفل میں جن مقامی منقبت خوانوں نے مدح خوانی کی ا ن کے نام یہ ہیں۔ مجاہد عباس صاحب،محمد عباس عباس ،علی نواز نقوی صاحب، واجد بخاری صاحب، عظمت علی صاحب اور ادارے کے صدر وقار بخاری صاحب۔ ان کے بعد مجھےدعوتِ کلام دی گئی میں نے ممکن کوشش کی کہ سامعین کی خدمت میں مولائے کائینات کی ولادت کے حوالے سے اپنا نیا کلام پیش کر سکوں،جس طرح توجہ سے مومنین نے مجھے سُنا اوراپنی بے پناہ داد سے میری حوصلہ افزائی کی میںاس کے لئے ان کا شکر گزار ہوں۔مقامی منقبت خواں حضرات نے تقریباً ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت لے لیا جس کی وجہ سے مولانا صاحب کا خطاب مختصر ہوگیا،مگر اس کے باوجود اپنے مختصرخطاب میں بھی آپ نے بہت ہی احسن انداز میں فضائلِ مولائے کائنات حضرت علی (ع) بیان فرمائے ۔ نقیبِ محفل جناب عظمت علی صاحب نے مہمان شعراء اور مولانا صاحب سے اس تاخیر کی معذرت کی اور مقامی منقبت خواں حضرات سے درخواست کے وہ آئندہ وقت کا خیال رکھیں۔محفل میں معزز مومنین میں حیدر عباس صاحب ،فضل مہدی رضوی صاحب، آصف علی میر صاحب ،سید سخاوت حسین کاظمی، فدا حسین صاحب، مجاہد شمسی صاحب، آغا نعیم صاحب، ڈین ہاگ سے اختر علی کاظمی صاحب، اطہر علی کاظمی صاحب، کے علاوہ کثیر تعدادمیں شرکت کی۔ ڈین ہاگ سے برادرِمحترم جناب سیفی صاحب کی بہت کمی محسوس ہوئی جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے مگر،اگلے روز ان کے سینٹر میں ان کی طرف سے مجھے میلاد پڑھنے کی دعوت بھی ملی مگر کیونکہ مجھے اس روز برلن برادرِ محترم عبدلمناف صاحب کی دعوت پر منہاج القرآن سینٹر، برلن میں محفل پڑھنا تھی اس لئے میں نے معذرت کی مجھے امید ہے انھوں نے میرے معذرت قبول کر لی ہو گی۔اپنی بیماری کے باوجود جناب مولانا ذولقرنین صاحب اپنے بچوں کے ساتھ شرکت ہی نہیں کی بلکہ تمام وقت شعرا اور منقبت خوان حضرات کی داد سے حوصلہ افزائی بھی فرماتے رہے۔ محفل کے اختتام پر وقار بخاری صاحب اور ان کے ساتھی اراکینِ انجمن نے محفل میں شریک مومنین کی مٹھائی سے تواضع کی،اور مولانا ارشد ترابی صاحب کے دعائی کلمات کے ساتھ یہ پُر نور محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

..........

/110