جس وقت آیت اللہ العظمی خامنہ ای پر حملہ ہوا آپ ایک طرف سے تہران کے امام جمعہ تھے اور دوسری طرف سے سپریم ڈیفنس کونسل میں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے نمائندے تھے۔ حملے میں آپ زخمی ہوئے تو حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے آپ کی نام ایک پیغام میں ارشاد فرمایا: "اب انقلاب کی دشمنوں نے آپ ـ جو کہ رسول اللہ کی ذریت طاہرہ اور حسین بن علی علیہما السلام کے خاندان سے ہیں اور اسلام و اسلامی مملکت کی خدمت کے سوا آپ کا کوئی اور جرم نہیں ہے اور دشمنوں نے آپ جو محاذ جنگ میں فداکار سپاہی، محراب نماز میں معلم، جمعہ و جماعات میں مقتدر خطیب اور انقلاب کے میدان میں دلسوز راہنما ہیں ـ پر قاتلانہ حملہ کرکے اپنی سیاسی سوچ اور عوام کی حمایت اور عالم ستمگروں کی مخالفت کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ انھوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ کرکے ملک کے اندر ہی نہیں بیرون ملک بھی کروڑوں انسانوں کے جذبات مجروح کردیئے ہیں۔ یہ لوگ سیاسی بصیرت سے اس قدر بے بہرہ ہیں کہ جمعہ، پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے آپ کے خطاب کے فوراً بعد آپ پر حملہ آور ہوئے اور انھوں نے ایک ایسی شخصیت پر قاتلانہ حملے کا ارتکاب کیا ہے جس کی نیکی اور صحت گفتار کی دعوت کی صدا مسلمانان عالم کی سماعتوں میں گونج رہی ہے۔ انھوں نے اس غیر انسانی عمل کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی بجائے کروڑوں انسانوں کے عزم کو پختہ تر اور ان کی صفوں کو استوار تر کردیا۔ کیا ان کی ان وحشیانہ اعمال اور احمقانہ جرائم کے باوجود وہ وقت نہیں آیا کہ ان کی خیانت کے جال میں پھنسے ہوئے عزیز نوجوان ان کے دام خیانت سے چھوٹ جائیں اور اور والدین اپنے عزیز نوجوانوں کو ان کے مجرمانہ مقاصد پر قربان نہ کریں اور انہیں ان کے جرائم میں حصہ لینے سے باز رکھیں؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ ان جرائم کے ارتکاب نے ان کے نوجوانوں کو تباہی سے دوچار کیا ہے اور ان کی جان مٹھی بھر جرائم پیشہ اور شرپسند عناصر کی نفسانی خواہشات کی طلب میں ضائع ہورہی ہے؟ مین آپ "خامنہ ای عزیز" کو تہنیت پیش کرتا ہوں کہ مخاذ جنگ میں سپاہیوں کے لباس میں اور محاذ جنگ کی پشت پر لباس علم میں اس مظلوم ملت کی خدمت کررہے ہیں اور میں خداوند متعال سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی خاطر آپ کی سلامتی اور تندرستی کی التجا کرتا ہوں۔
..........
شہید آیت اللہ ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتی، اسلامی جمہوری نظام کے آئین کے لئے تشکیل یافتہ مجلس خبرگان کے سربراہ تھے اور جب آیت اللہ العظمی خامنہ ای پر حملہ ہوا تو وہ عدلیہ کے سربراہ بھی تھے۔ 27 جون کو آیت اللہ العظمی خامنہ ای پر حملہ ہوا تو آیت اللہ بہشتی نے ان کو پیغام ارسال کیا مگر صرف ایک روز بعد یعنی 28 جون کو منافقین اور دشمنان اسلام کی مذموم سازش میں ان کی باری تھی چنانچہ وہ جب حزب جمہوری اسلامی کی عمارت میں تقریر کررہے تھے ایک بم کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر بیٹھ گئی اور شہید بہشتی اور ان کے اکھتر ساتھ اس حملے میں شہید ہوئے۔ بہرصورت یہاں آیت اللہ شہید ڈاکٹر بہشتی کے پیغام کا متن پیش کیا جارہا ہے:آیتاللہ شہید ڈاکٹر بہشتی: اسلام کے محاذ پر اپنا جہاد جاری رکھیں
بسمہ تعالی
جناب حجت الاسلام و المسلمین آقای سید علی خامنہ ای دامت افاضاتہاسلام، انقلاب اور مملکت اسلامی کے دشمنوں کی جانب سے آپ برادر پر ناکام قاتلانہ حملے نے ایک بار پھر ثابت کرکے دکھایا کہ اسلام اور ملت کے قسم خوردہ دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے راستے میں کسی بھی جرم سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کی درندگی پر مبنی ان اقدامات کی بنا پر ان کٹھ پتلیوں کے خلاف عوامی غیظ و غضب روز افزوں ہے اور یہ غیظ و غضب انہیں معاشرے میں تنہا کردے گا۔ مین اللہ تعالی کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ وہ آپ "عزیز اور مجاہد بھائی" کو سلامتی کی نعمت جلد از جلد لوٹا دے اور آپ اسلام کے محاذ پر اپنا جہاد جاری رکھیں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہسید محمد حسینی بہشتی
..........
آیتاللہ ہاشمی رفسنجانی: دنیا میری نظروں کے سامنے تاریک ہوگئیہم جیرفت اور کہنوج کے دورے پر تھے ... اس وقت کی ژاندار مری (پیراملٹری فورسز) کے مقامی کمانڈر کیپٹن سجادی نے مجھے آقائے خامنہ ای پر قاتلانہ حملے کی بری خبر اور اس قاتلانہ حملے کی ناکامی کی خوشخبری سنادی۔ کیپٹن نے کہا کہ ایک ٹیپ ریکارڈر میں ایک بم نصب کیا گیا تھا اور اس ٹیپ ریکارڈر کو مسجد ابوذر میں ڈائس پر رکھا گیا تھا۔ ایک لمحہ تو دنیا میرے سامنے تاریک ہوگئی۔ میرے ساتھیوں نے بھانپ لیا کہ میں توازن کھو بیٹھا ہوں چنانچہ شاید اسی وجہ سے کیپٹن سجادی نے کافی پرامید کردینے والی خبریں بھی ان کی صحت و تندرستی کے بارے میں سنائیں۔ میں نے تہران واپسی کا عزم کیا اور ہم رات آٹھ بجے تہران پہنچے تو میں "بیمارستان قلب" (Heart Hospital) پہنچا اور آقائے خامنہ ای کی عیادت کی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ 70 فیصد خطرہ ٹل گیا ہے؛ خون بہت زیادہ ضائع ہوگیا ہے؛ عصبی رگوں کے منقطع ہونے کی وجہ سے دایاں ہاتھ ناکارہ ہوگیا ہے اور عصبی رگوں کو بعد میں متصل کیا جائے گا؛ اور سینے کی دائیں طرف اعصاب کا نظام متأثر ہوگیا ہے۔ خوں بہنے کا عمل روکنے کے لئے انہیں آپریش تھئیٹر لے جایا گیا اور میں گھر چلا گیا۔ میں آقائے خامنہ ای پر ہونے والے حملے اور ان کی جسمانی صورت حال سے شدید غم و اندوہ میں مبتلا ہونے کے باعث گھنٹوں جاگتا رہا جبکہ میں اپنے گھروالوں سے اپنی تشویش چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔اٹھائیس جون کی صبح ساڑھے چھ بجے ہسپتال پہنچا تو رہبر معظم کی حالت اطمینان بخش تھی ۔۔۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا اور میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس روز سہ پہر کو میں نے حزب جمہوری اسلامی کی مرکزی شوری کے اجلاس میں شرکت کی اور آقائے خامنہ ای کے علاج معالجے کے بارے میں صلاح مشورے کے لئے کسی ایک سرکاری عہدیدار کی ہسپتال میں موجودگی پر زور دیا گیا چنانچہ میں شام کو ہسپتال پہنچا اور ان کی عیادت کی۔ شام کو ان کی حالت بہت بہتر تھی۔
...........
شہید رجائی: خامنہ ای امام اور امت کے فداکار ساتھی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادر مجاہد حجت الاسلام و المسلمین آقائے سید علی خامنہایقطعا و یقیناً جانتا ہوں آپ برادر ایثارگر و مجاہد کی عظیم روح اسلام و انقلاب اسلامی کے راستے میں شہادت کو اللہ کا فیض عظیم سمجھتی ہے اور آپ نے اللہ کی بندگی اور اسلام و امام اور شہید پرور امت کی خدمت کی راہ میں جان کی قربانی دینے سے نہ تو کبھی دریغ کیا اور نہ ہی دریغ کریں گے۔ اسی حال میں میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ پر قاتلانہ حملے کے سلسلے میں جرائم پیشہ عناصر کی پلید سازش کو ناکام بناتے ہوئے امام و امت کے فداکار یار و یاور کو قطعی اور حتمی خطرے سے نجات عطا فرمائی۔ میں ذات احدیت کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے راستے میں ہمارے مجاہد بھائی کو جلد از جلد صحت یابی اور توفیق مزید عطا فرمائے۔
آپ کا بھائی ـ محمد علی رجائی
.......
حجتالاسلام والمسلمین ناطقنوری: آقا نے کہا: "نجانے کہ خدا مجھ سے کیا کام لینا چاہتا ہےجب مسجد ابوذر میں آقا پر دہشت گردانہ حملہ ہوا میں اس وقت پارلیمنٹ میں تھا۔ خبر پاتے ہی فوری طور پر ریلوے چوک پر واقع "بہارلو ہسپتال" پہنچا۔ آقا کو آپریشن تھیئٹر لے جایا گیا تھا؛ آپ کی زوجہ مکرمہ بھی تشریف لائی تھیں اور محافظین بھی موجود تھے۔ جناب جباری جو آقا کے ڈرائیور تھے اور اب بھی ان کے پاس ہیں اور آقا ان سے بہت محبت کرتے ہیں، نے تیزرفتاری سے آقا کو ہسپتال پہنچانے میں اہم کردا ادا کیا تھا۔ جناب جباری نے کہا: میں پہلے تو آقا کو "عباسی کلینک" لے گیا مگر وہاں وسائل کم تھے چنانچہ انھوں نے آقا کے علاج کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا اور میں انہیں بہارلو ہسپتال لے کر آیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر آقا کو صرف پانچ منٹ مزید تأخیر سے اسپتال لایا جاتا تو انہیں ہسپتال لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور یہ کہ اگر دھماکہ ان کے بائیں پہلو کی جانب ہوتا تو قطعی طور پر ان کے دل کو نقصان پہنچتا مگر اللہ نے چاہا کہ اسلامی نظام کا یا دھڑکتا دل دھڑکنے سے باز نہ آئے اور خدا نے انہیں انقلاب اسلامی کے ذخیرے کے عنوان سے محفوظ رکھا اور حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے بھی آقا پر قاتلانہ حملے کے بعد آپ کے نام اپنے پیغام میں آپ کی شایان شان انداز سے تجلیل فرمائی۔ ایک روز میں ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوا تو انھوں نے کہا: "اس حادثے کو مجھے لے جانا چاہئے تھا مگر نہ معلوم کہ خدا مجھ سے کون سا کام لینا چاہتا ہے کہ اس نے مجھے زندہ رکھا"۔
...................
/110