محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی نے واشنگٹں مں صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ کسی بھی تنظیم کو فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن قرار دینے کیلئے قانون کے تحت شواہد ضروری ہیں۔ اور یہ عمل مشاورت اور دانشمندی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اسکے دوررس نتائج ہوں۔ تحریک طالبان پاکستان کو غیر ملکی دہشت گردی تنظیم قرار دینے کا معاملہ اس ضروری عمل سے گزررہا ہے جو جلد مکمل ہوجائے گا۔اس سے قبل امریکی سینیٹرز نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستانی طالبان کو واشنگٹن کی بیرون ملک دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ڈیموکریٹک سینیٹرز چک شومر، کرسٹن گلی برینڈ، رابرٹ مینن ڈیز اور فرینک لوٹِن برگ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کو دہشت گرد قرار دلوانے کے لیے پارلیمنٹ میں بِل جمع کرائیں گے۔
..........
/110