17 ستمبر 2010 - 19:30

کوئٹہ میں جاری ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم دہشت گرد ٹولے کی فائرنگ سے دو سگے بھائی "محمد حسن" و "حسنین علی" شہید جبکہ ان کے چچا زاد بھائی نوید شدید زخمی ہوگئے ۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو خصوصی ذرائع اور شیعیت نیوز پورٹل سے ملنی والی رپورٹ کے مطابق ہشت گردی کا نشانہ بننے والے شیعہ نوجوان لیاقت بازارمیں واقع اپنی دوکان سے گاڑی میں گھر کی طرف جارہے تھے کہ آرٹ اسکول روڈ پر کالعدم ٹولے کے دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو سگے بھائی حسنین علی اور محمد حسن شہید ہوگئے جبکہ ان کی چچا زاد بهائی نوید شدید زخمی ہوگئے جو سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔دہشت گرد معمول کے مطابق واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکه دوسری طرف سی نام نهاد قانون نافذ کرنی والی ادارے معمول کے مطابق انہیں پکڑنے میں ناکام رہے۔ یا یوں کہئے کہ پولیس اہلکاروں نے معمول کے عین مطابق دہشت گردوں کو پکڑنے کی کوشش ہی نہیں کی اور ان کا تعاقب ہی نہیں کیا. شاید قصور ان کا بھی نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہورہا ہے "ایجنڈے کے مطابق" ہی ہورہا ہے.واقعے کے بعد مشتعل افراد نے جناح روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے دوکانیں بند کروادیں جبکہ طوغی روڈ اور علی بہادر روڈ پر بھی ٹائر جلاکر احتجاج کیا گیا۔جناح روڈ پر دہشت گردوں کو گرفتار کرکے سزا دلوانے میں "سدا ناکام" پولیس فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو آنسو گیس شیلوں اور لاٹھی چارج کا نشانہ بنایا.یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک طرف تو کالعدم دہشت گرد ٹولوں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کے ہاتھوں ملت جعفریہ کے بے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اور پولیس انتظامیہ سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتلوں کی گرفتاری میں تاحال ناکام نظر آ رہے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ میں حکومتی شخصیات اور پولیس کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔واضح رہے کہ شہید ہونے والے دونوں بھائی حسنین علی اور محمد حسن قندھاری امام بارگاہ کے صدر محمد علی لالا کے بھتیجے اور ان کے بھائی حاجی محمود کے بیٹے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے نوجوان نویدعلی ان کے بیٹے ہیں۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل دہشت گردوں کے  شہید ہونے والے بینکار سید ارشد زیدی محمد علی لالا کے داماد تھے۔

.........

/110