اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے شیعہ مفکر و عالم دین اور علمائے اسلام کی عالمی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل "ڈاکٹر محمد سلیم العوا" نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سنی معاشروں میں تشیع کے فروغ کے دعؤوں کی تردید کی اور کہا: اس دعوے کی تشہیر سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا امریکہ اور اسرائیل عالم اسلام میں فتنہ اور دراڑ ڈالنے میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت پھیلانے میں ان کی سازشیں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا: سنی معاشروں میں تشیع کو فروغ دینے کا دعوی استعماری ممالک کی پالیسیوں کا حصہ ہے اور وہ ان دعوؤں کے ذریعے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں شیخ یوسف القرضاوی کے سابقہ دعؤوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: شیخ یوسف القرضاوی موصولہ اطلاعات اور اعداد و شمار میں درست اور نادرست کی تشخیص کی قوت سے سرشار ہیں لیکن اس مسئلے میں وہ اپنے دوستوں اور حاشیہ برداروں کی غلط خبررسانیوں سے متأثر ہوگئے تھے اور وہ کچھ عرصے تک سنی معاشروں کو تشیع کے فروغ سے خوفزدہ کرتے رہے۔ انھوں نے کہا: عرب ممالک میں ایران پر تنقید کی وجہ بھی فرقہ وارانہ رجحانات ہیں۔ انھوں نے کہا: آج جو اختلافات شیعہ اور سنی کے درمیان نظر آرہے ہیں یہ فارس اور عرب کے درمیان پرانے قومی اختلافات کا تسلسل ہے اور ان اختلافات کا تشیع یا تسنن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ بعض لوگ ایران کے اہل تشیع کو اسی بنیاد پر حتی دین سے خارج قرار دیں کیونکہ فارس اور عرب کے اختلافات کے بعد 14 صدیاں گذر چکی ہیں، قوم فارس سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلمان ہوگئے ہیں اور ان کا قبلہ بھی مکہ ہے اور اس کے سوا جتنے بھی دعوے اور الزامات ہیں وہ درست نہیں ہیں اور اختلافات قومی ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر العوا نے اسلامی جمہوری نظام کا سابقہ شہنشاہی نظام سے موازنہ کیا اور کہا: ایران شاہ کے زمانے میں بھی شیعہ تھا اور اس زمانے میں ایرانی موجودہ زمانے کی نسبت بہت زیادہ متعصب تھے لیکن اسلامی جمہوری نظام آنے کے بعد ایران قومی یا مذہبی تعصب دکھانے کی بجائے اپنا تعارف اسلامی مملکت کے عنوان سے اپنا تعارف کراتا ہے تا ہم اس ملک کے دشمنوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس دشمنی کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ "ایران ایک اسلامی ملک ہے اور یہ ملک ایسے اسلامی ملک میں تبدیل ہوگیا ہے جو اسرائیل کا دشمن ہے"۔ .......
/110