العربیہ ٹی وی نے سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کی جانب سے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے بیان کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ" سعودی عرب اپنی حاکمیت، فضائی یا زمینی حدود کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لئے استعمال کرنے کی دوٹوک انداز میں تردید کرتا ہے۔ سعودی عرب اپنی اسی سیادت کو اسرائیل کے لئے بدرجہ اتم استعمال کرنے کی بات کرتا ہے کیونکہ صہیونی ریاست کے ساتھ تو ریاض کے سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔سعودی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت برطانوی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات پر بغور نظر رکھے ہوئے ہے کہ جن میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کے لئے اسرائیل سعودی عرب کی فضا استعمال کرسکتا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری اہلکار نے ان رپورٹس کو لغو، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔گذشتہ بدھ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔ اس عمل میں کونسل کے بارہ ارکان نے حق میں ووٹ ڈیا جبکہ ترکی اور برازیل نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ لبنان نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے اجتناب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یادرہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور آل سعودی کے نام ترکی بن عبدالعزیز کی خط سی بهی اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے لیکن جہاں تک ایران پر صہیونی حملے کا تعلق ہے تو یہ صرف مغربی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے ورنہ حقیقت میں اسرائیل ایران پر حمله کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوگا کیونکہ حزب اللہ اور حماس سے شکست کھانے والی ریاست ایران جیسے طاقتور ملک سے لڑکر اپنی مطلق نابودی ہی کو دعوت دے گی...
17 اگست 2010 - 19:30
News ID: 191977
سعودی عرب نے برطانوی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان رپورٹوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ریاض نے ایران پر حملے کے لئے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔