17 اگست 2010 - 19:30

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت کے روز اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ پرجوش محبت ـ بشرطیکہ معارف و تعلیمات، استدلال و منطق کے ہمراہ ہو ـ کو حق کی طرف رجحان کے فروغ و بقاء کی ضامن قرار دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے رہبر معظم کے دفتر کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ صبح  شعرا، ذاکرین اور مداحان اہل بیت (ع)  نے آج صبح، حضرت صدیقۃالکبری سیدہ فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا اور آپ (س) کی فرزند ارجمند حضرت امام خمیںی رحمةاللہ علیہ کی ولادت با سعادت کے سلسلے میں حسینیہ امام خمینی (رحمةاللہ علیہ) میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ شعراء نے  خاتون نجابت و عفاف حضرت سیدہ (س) کے فضائل و مناقب سمیت انقلاب اسلامی اور حالات حاضرہ کے حوالے سے اپنا کلام پیش کیا اور مداحوں و ذاکرین نے بھی اپنے خاص انداز میں حضرت سیدہ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔  حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انسانی تاریخ کی عظیم ترین خاتون اور امت اسلامی کے لئے باعث فخر و مباہات بی بی کے میلاد مسعود کے سلسلے میں مبارک باد پیش کی اور اہل بیت علیہم السلام کے معارف و تعلیمات کے فروغ و ترویج و تعمیق اور عوام کے دینی ایمان کی تقویت و استحکام کو معاشرے کے بااثر افراد کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا اور فرمایا: دنیا کی جابر قوتیں اور قوت و ثروت کے بین الاقوامی جتھے ـ جن کے استکباری پنجے کو ملت ایران کے قیام نے کمزور کردیا ـ آج نئی اور مؤثر روشوں اور اوزاروں کے سہارے لوگوں کے دلوں کو دینی ایمان، اور ایمان کو جگادینے والے محرکات سے خالی کرنا چاہتے ہیں لیکن مجاہدت اور احساس ذمہ داری کے ذریعے یہ مکاریاں بے اثر ہوجائیں گی۔ آپ نے انقلاب کے تین عشروں کے دوران ملت ایران کے عظیم اور مؤثر کارناموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ملت ایران اس روشن راستے پر گامزن نہ ہوتی اور اقوام عالم کے وسائل پر تسلط اور انہیں غارت کرنے کے سلسلے میں مستکبرین کے لئے رکاوٹیں نہ کھڑی کرتی تو کبھی بھی اس طرح کی عداوتوں اور دشمنیوں کا نشانہ نہ بنتی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے باطل اور شہوت پرستانہ اور سیاسی تفریحات کی ترویج اور فتنہ انگیزیوں کو ملت ایران کے سفر اور عوام کے دینی ایمان کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں دشمن کی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور فرمایا: ملت ایران میں اسلامی، معنوی اور انقلابی معارف اور ملت ایران کی شجاعت کو گہرائی بخشنے والا ایک ایک عامل یہ ہے کہ انسانوں کے قلب و روح میں محبت اہل بیت (ع) کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں مداحوں اور ذاکرین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حضرت آيت‌اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ پرجوش محبت اگر معارف و تعلیمات اور استدلال و منطق کے ہمراہ ہو تو یہ حق کی طرف رجحان کے فروغ و بقاء کی ضمانت فراہم کرتے ہے۔ آپ نے فرمایا: اسلام کی پوری تاریخ کے دوران، آج تک، رسول اللہ (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کے ساتھ فکری اور منطقی و قلبی ربط ، جذباتی تعلق سے جُڑا رہا ہے اور اس ربط و محبت کو مخدوش کرنے کے سلسلے میں کوئی بھی اقدام اہل بیت (ع) کی پیروی کے عظیم سلسلے کے ساتھ خیانت ہے۔آپ نے امید، نشاط، رجائیت و امید پروری، خدا پر توکل اور خدا کے وعدوں پر اعتماد، اہل بیت علیہم السلام سے پیوستگی  اور اسلامی ایران اور امام خمینی رحمۃاللہ علیہ پر فخر و اعتزاز کو نوجوان نسل کی ضرورت قرار دیا اور فرمایا: نوجوانوں کو جان لینا چاہئے کہ ان کی اور گھرانی اور معاشرے کے مقدرات، کوشش، محنت، سنجیدگی اور مسلسل کام سے وابستہ ہے اور یہ معارف اور اخلاقیات تربیتی مفاہیم کے ذریعے ـ بالواسطہ طور پر ـ مناسب اور ہنرمندانہ سانچوں میں ڈھال کر آج کی نسل کو منتقل کئے جاسکتے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سیدہ زہراء سلام اللہ کی عصمت کے مقام رفیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیدہ (س) کی زندگی کو سراسر جدوجہد قرار دیا اور فرمایا: سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا، ایک فداکار سپاہی کی مانند مختلف سماجی اور سیاسی شعبوں میں فعال اور مؤثر تھیں اور آپ (س) نے مجاہد حکیم و عارف کی مانند شوہرداری اور مہربان ماں کی حیثیت سے تربیت اولاد کے شعبوں میں تمام ذمہ داریوں پر عملدرآمد کیا۔ آپ نے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کو  آیت عظمی و اعلی اور خاتون کی حیثیت سے ایک مثالی خاتون قرار دیتے ہوئے "خطبہ فدکیہ" کی حکمتوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہ خطبہ معارف اور حکمت کے حوالے سے اعلی ترین سطح پر ہے اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے علمی مقام و مرتبت کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ نے سیدہ سلام اللہ علیہا کہ مختصر سی عمر کے باوجود آپ (س) کے قابل قدر فضائل کے مجموعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان فضائل کے مجموعے کو انسانی تاریخ کے لئے باعث فخر قرار دیا اور فرمایا: "جذباتی تعلق اور محبت" اور "جذبے و شوق کے شعلوں" کے ذریعے معصومین علیہم السلام کے مناقب و خصوصیات مخاطبین کو منقل ہوتے ہیں اور یہ جذبہ منطق اور حقیقت پر استوار ہے جو  شیعہ تاریخ میں ایک بنیادی عنصر کے عنوان سے کردار ادا کرتا ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ذکر اہل بیت کی ظرفیت و قابلیت سے فائدہ اٹھانے کو ضروری قرار دیا اور تاریخی وقائع جعل کرنے سے پرہیز پر زور دیتے ہوئے فرمایا: لوگوں سے آنسو لینا ہدف نہیں ہے بلکہ ہدف "اشک آلود آنکھوں کے ساتھ شفاف معارف کا اتصال" ہے۔ آپ نے حقیقی مداحی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: مداحی ایک قسم کی معلمی ہے اور شاعری کو معرفت اور آگہی بخشی پر مشتمل، سبق آموز اور معاشرے کے واقعات و حوادث پر مرکوز ہونے کی ضرورت ہے اور  وقائع و حوادث کی تشریح کے سلسلے میں ہنرمندانہ اور مخلصانہ انداز اپنایا جائے تو مؤثر اور ہدایت بخش ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110