اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیتاللہ العظمی صافی گلپایگانی نے اسلامی فقہ کی بنیاد پر بینکوں میں رقم کی سپردگی اور بینک کی طرف سے دی جانے والی سہولیات کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات فراہم کئے ہیں. سوال نمبر 1: کیا بینک میں رکھی جانی والی رقم پر روزانہ منافع کا تعین کیا سود کے زمرے میں آتا ہے؟جواب: اگر رقم بینک کے حوالے کرنے والا شخص بینک کو وکیل قرار دے اور اس کو اختیار دے کہ اس کی رقم سے جائز لین دین کرے اور حاصل ہونے والے منافع میں سے متعینہ رقم اس کو ادا کرے اور باقی منافع وکالت کی اجرت کے عنوان سے خود رکھ لے (جیسا کہ بلا سود بینکاری کے قانون میں بھی قرار دیا گیا ہے)، تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے تا ہم اگر وہ شخص اپنی رقم قرضے کے عنوان سے بینک کے سپرد کرے اور مقصد یہ ہو کہ اس قرض کے عوض مذکورہ رقم سے بیشتر رقم وصول کرے گا تو یہ سود اور حرام ہے۔ سوال نمبر 2: بعض بینک عوام کو سود کے بدلے قرضہ دیتے ہیں اور اس کو قرض الحسنہ کا نام دیتے ہیں؛ اس سلسلے میں شرعی حکم کیا ہے؟جواب: اگر بینک بلاسود بینکاری کے قوانین کے مطابق عمل کریں تو اس کا دیا ہوا قرضہ ربوی نہیں ہوگا لیکن بعض بینکار قانون پر عمل نہیں کرتے اور صارفین بھی شرعی قوانین سے آگھی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بینکوں کی طرف سے دیا ہوا قرضہ سودی قرضے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سوال نمبر 3: بعض مالیاتی اور کریڈٹ اداروں کے ذریعے قرض کے عوض منافع کی ادائیگی کا شرعی حکم کیا ہے؟جواب: اگر صارفین مضاربہ اور شراکت جیسے شرعی عقود کی بنیاد پر اپنی رقم ان اداروں کے سپرد کریں اور لین دین کے شرعی احکام کا لحاظ رکھیں تو ان اداروں سے منافع کی وصولی جائز ہوگی؛ اگر صارفین متعلقہ ادارے کو وکیل قرار دے کہ وہ اس کی رقم سے جائز لین دین کریں اور منافع کا کچھ حصہ وکالت کی اجرت کے عنوان سے خود رکھ لے اور باقی منافع اس کو ادا کردے تو جائز ہے لیکن اگر وہ متعلقہ ادارے کو اپنی رقم سے زیادہ رقم کی وصولی کی نیت سے قرضہ دے دے تو یہ سود اور حرام ہوگا۔ سوال نمبر 4: بعض مالیاتی ادارے عوام سے رقم لیتے ہیں اور شرط لگاتے ہیں کہ رقم اگر معینہ مدت تک ادارے میں رہے تو ادارہ مذکورہ مدت گذرجانے کے بعد صارف کو قرض دے گا؛ اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟جواب: اگر ادارے یا بینک کو رقم اس شرط پر سپرد کی جائے کہ وہ مثلاً چھ مہینے بعد اس کو قرضہ دے گا تو یہ سود اور حرام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
17 اگست 2010 - 19:30
News ID: 189866
حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے موصولہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے اسلامی عقود اور بینکوں کے سودی لین دین میں ملوث ہوجانے کی وضاحت کی ہے۔