17 اگست 2010 - 19:30

ایٹمی ایندھن کےتبادلے کےلئےتہران اعلامیےکی حمایت کاسلسلہ آج بھی جاری رہا۔

ارناکی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ جیانگ یو نے آج بیجنگ میں اس اعلامئے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری، ایران کے پرامن ایٹمی مسئلےکےحل کی بہترین روش ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اور متعلقہ فریق جلد سےجلدمذاکرات کے ذریعے ایران کے پرامن ایٹمی مسئلے کےحل کے لئے خاص طریقہ کار اختیار کریں گے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیرخارجہ کےاس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جس میں انھوں نےایران کےایٹمی پروگرام پرتشویش ظاہرکی تھی، کہا کہ ایران کے پر امن ایٹمی مسئلے کے سفارتی حل کاماحول اب بھی موجود ہے۔
دریں اثنا مصر کے وزیر خارجہ نے بھی  ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی حمایت کی ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ نے تہران کےایٹمی اعلامئے کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جو ایران کی شفاف پالیسی اور نیک نیتی کا ثبوت ہے، تاکید کی کہ صہیونی ریاست کے غیر قانونی ایٹمی پروگرام پرتوجہ دیئے بغیر ایران کے پرامن ایٹمی معاملے کا جائزہ نہیں لینا چاہئے۔
واضح رہے کہ مصر کے وزير خارجہ احمد ابوالغیط اس وقت آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے سرکاری دورے پر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110