17 اگست 2010 - 19:30

سعودی بادشاہ نے خفیہ دستاویزات کے منظرعام پرآنے پرخفیہ ایجنسیوں کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یادرہے سعودی خفیہ ایجنسیوں سے ایک نہایت خفیہ دستاویز منظر عام پرآئي ہےجس میں عراق میں سرگرم عمل القاعدہ کے دہشتگردوں کے لئے سعودی عرب کی امداد کی تفصیلات درج ہیں۔ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک خصوصی کمیٹی بنائي ہے جو انٹیلجنس لیک کی تحقیقات کرے گي۔سعودی انٹلجنس کے 37  اھلکاروں کو گرفتار کرلیاگيا ہے جنہیں اس دستاویز کے منظرعام پرآنے کا ذمہ دار بتایا جارہا ہے۔ اس دستاویز سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سعودی حکومت نے عراق میں تخریبی کاروائياں کرنے کے لئے دہشتگردوں کو دھماکہ خیزمادے اور ہتھیار فراہم کئےہیں۔ ادھر اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل بندر بن سلطان کو انٹیلجنس لیک کا اصلی محرک سمجھا جا رہا ہے۔ یادرہے کہ گذشتہ ہفتے عراق میں ایک سابق سعودی فوجی افسر عبداللہ قحطانی کو دہشتگردی کی کاروائياں کرنے کے جرم میں گرفتارکیا گيا تھا۔عبداللہ قحطانی کا شمار القاعدہ کے خطرناک دہشتگردوں میں ہوتا ہے جو عراق میں دہشتگردی کی متعدد کاروائيوں اور دسیوں بیگناہ افراد کے قتل میں ملوث ہے۔ ......قابل ذکر ہے کہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنی انٹیلجنس ایجنسیوں کی عراق میں دہشت گردی کی کاروائیون پر کسی بھی افسوس کا اظہار نہیں کیا اور انھوں نے اپنے سعودی گماشتون پر عراق میں خون کی ہولی کھیلنے کی وجہ سے بھی لعنت ملامت نہیں کی ہے بلکہ ان کی ناراضگی کا سبب یہ ہے کہ ان کے بھیجے ہوئے گماشتوں کا راز کیوں کھل گیا ہے؟ عبداللہ کو غم اپنی رسوائی کا ہے کہ عراق میں لاکھون افراد کے خون میں ان کا ہاتھ کیوں دکھائی دیا ہے؟  ورنہ انسانی خون آشامی تو سعودی حکمرانوں اور ان کے پشت پر کھڑے وہابی مفتیوں کا پرانا شوق ہے جو انسانی خون دیکھ کر وجد میں آتے ہیں یہ وہی حجاج اور اس سے قبل ابن ابی سفیان اور ابن ابن ابی سفیان والا اموی شوق ہے جو سعودیوں کو ورثے میں ملا ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران

...........

/110