17 جولائی 2010 - 19:30

اہل تشیع کے مرجع تقلید «آیت‏اللہ العظمی سید محمد مفتی‏الشیعۃ موسوی» آج بدھ کے روز استفتاء کا جواب لکھ رہے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا اور دار فانی کو وداع کہہ گئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قم مین مقیم مرجع تقلید «حضرت آیت‏اللہ العظمی سید محمد موسوی مفتی‏الشیعہ» آج بدھ کی سہ پہر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔ وہ کل رات سے زکام میں مبتلا ہوگئے تھے اور آج سہ پہر کو ایک استفتاء کا جواب لکھ رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے پر اپنی رہائشگاہ میں ہی دعوت حق کو لبیک کہتے ہوئے 82 سال کی عمر میں دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ آیت‏اللہ سید محمد موسوی مفتی‏الشیعہ، جو سنہ 1307 ہجری شمسی (1928) کو شہر اردبیل میں پیدا ہوئے تھے امام خمینی، علامہ سید محمد حسین طباطبائی اور آیت‏اللہ العظمی خوئی (رحمۃاللہ علیہم) جیسے عظیم علماء و فقہاء کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کرچکے تھے۔ جنازے کا پروگرام مرحوم مرجع تقلید کے فرزند ارجمند «حجت‏الاسلام والمسلمین سید حسن موسوی» نے اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ العظمی مفتی الشیعہ جو عوامی مسائل حل کرنے کو بہت اہمیت دیتے تھے، معمر اور بیمار ہونے کے باوجود آج بھی ہمیشہ کی طرح اپنے دفتر میں حاضر تھے اور استفتائات کے جوابات تحریر کررہے تھے تا اینکہ نماز ظہرین کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد مفتی الشیعہ دنیا سے کوچ کرگئے۔ انھوں نے مرحوم مرجع تقلید کے جنازے اور تدفین کے بارے میں کہا: مرحوم کا جنازہ کل (بروز جمعرات) ساڑھے پانچ بجے شام کو قم کی معروف تاریخی مسجد «مسجد امام حسن عسکری علیہ السلام» سے اٹھے گا اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی جانب منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: کل صبح سے مرحوم مرجع تقلید کی رہائشگاہ اور دفتر میں عزاداری اور سوگواری کی مجلس کا آغاز ہوگا.  یادرہے کہ مرحوم مرجع تقلید کی رہائشگاہ قم کے خیابان بہار میں ہوٹل الزہراء کے برابر والی گلی میں واقع ہے۔ مرحوم مرجع تقلید نے پسماندگان میں سات فرزند چھوڑے ہیں جن میں دو چار افراد دینی علوم کے حصول میں مصروف ہیں۔.........../110

- آیت الله مفتی‏الشیعه موسوی رحلت کرد + برنامه مراسم تشییع

.....................

- آیت الله العظمی السید محمد مفتی الشیعہ الموسوی (رحمۃاللہ علیہ) کے مختصر حالات زندگی