8 نومبر 2026 - 22:17
ایران کی ناکہ بندی کے لئے سینٹ کام کا نیا منصوبہ بھی ناکام ہوگا، ترجمان سپاہ پاسداران

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران کی ناکہ بندی کے لئے امریکہ کے نئے منصوبے "آئرن گیٹ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: یہ منصوبہ محض لفظوں کا کھیل ہے، اور امریکی ایران کی معیشت کو گرانے اور بکھیرنے کے لئے شدید معاشی دباؤ نافذ نہیں کر سکیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایران کی ناکہ بندی کے نئے امریکی منصوبے "آئرن گیٹ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے، یہ جنگ ایک مرکب (Hybrid) جنگ ہے جو فوجی اور معاشی دونوں میدانوں پر محیط ہے۔

انھوں نے امریکہ کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: جنگی حالات میں ایسی باتیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہم ان کے اہداف پر کئی گنا بڑے حملے کریں گے، اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دشمن ایسے اقدامات سے ایرانی قوم کا ارادہ نہیں توڑ سکتا اور نہ اپنے اہداف تک پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ ایران کی معاشی ناکہ بندی نافذ نہیں کر سکتا

سپاہ کے ترجمان نے کہا: امریکہ کبھی بھی معاشی ناکہ بندی کو اس معنی میں نافذ نہیں کر سکتا جس کی وہ کوشش کر رہا ہے اور جسے وہ مختلف ناموں اور منصوبوں کے تحت پیش کر رہا ہے۔

بریگیڈیئر محبی نے مزید کہا: اگر امریکہ اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو ہم اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہیں، اور ہم نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطوں کے لئے ضروری انتظامات سوچ رکھے ہیں۔

انھوں نے کہا: ہمارے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہمارے پاس ان رابطوں کے لئے مختلف راستے موجود ہیں، اور امریکہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے کہ ان راستوں کو بند کر سکے۔

امریکہ کا "آئرن گیٹ" منصوبہ اپنے اہداف تک نہیں پہنچے گا

انہوں نے کہا: آئرن گیٹ منصوبہ محض لفظوں کا کھیل ہے، اور امریکی ایران کی معیشت کو گرانے اور بکھیرنے کے لئے شدید معاشی دباؤ نافذ نہیں کر سکیں گے۔

بریگیڈیئر محبی نے کہا: پہلے بھی امریکیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران دو ہفتوں میں معاشی طور پر گر جائے گا، لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسا کچھ نہیں ہؤا۔

انھوں نے آخر میں زور دیا: یقیناً امریکہ ایران کو معاشی طور پر گرانے میں بھی اسی طرح ناکام رہے گا جس طرح وہ فوجی اہداف میں شکست کھا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha