بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تل ابیب میں سیاسی اور سیکیورٹی ذرائع کا خیال ہے کہ دنیا کے لوگ اور امریکی عوام "سادہ لوح نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کے ساتھ پچھلے دو جنگوں کے اختتام پر فتح، اور اس خطرے کے خاتمے، کا وہم سب کو بیچ دیا"۔ یہ ـ خطے کی تازہ صورتحال اور ٹرمپ و نیتن یاہو کے بارے میں صہیونی اخبار "معاریو" کی رپورٹ کا دیباچہ ہے۔
اس رپورٹ میں کا کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا کو ایک زیادہ طاقتور ایران کا سامنا ہے؛ ایسا ایران جو "کئی ہفتوں کے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑا رہتا ہے، جنگ کی گرد جھاڑتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کی ترقی میں اپنے راستے کو اسی نقطے سے جاری رکھتا ہے جہاں جنگ شروع ہوتے وقت رک گیا تھا۔"
یہ ذرائع مزید کہتے ہیں: "ایران اپنے بیلسٹک میزائل سسٹم کی تعمیر نو کر رہا ہے۔ ایران نے حتیٰ کہ مہارت سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، انصار اللہ یمن کی مدد سے آبنائے باب المندب کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے اور اب توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بدولت، عالمی معیشت کے مجموعی خد خال کا تعین کر رہا ہے۔"
صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا کہ "ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ میں سخت شکست کھا گئے۔ ایران کے مسئلے اور اس کے پیدا کردہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک وسیع اتحاد کی تشکیل ایک اہم مسئلہ ہے۔"
صہیونی ریزر جنرل اور سیکیورٹی و فوجی امور کے تجزیہ کار "یسرائیل زیو" نے بھی معاریو میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کے لئے امریکی سیکیورٹی امداد روکنے کے فیصلے نے "سیکیورٹی ادارے میں صدمے کا باعث بن گیا؛ خاص طور پر اس لئے کہ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام بنیامین نیتن یاہو کی پہل پر اٹھایا گیا ہے"۔
زیو کا خیال ہے کہ جو کچھ ہؤا وہ امریکی امداد پر انحصار کم کرنے کے بارے میں سیاسی بحث کے دائرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ کئی سالوں کے ایک اسٹریٹجک ستون کو ہٹانے کی نشاندہی کرتا ہے جو بظاہر اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کو بتائے بغیر کیا گیا ہے۔
زیو نے ٹرمپ کے بیان کے وقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سال ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے انٹرسیپٹر میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر شدید کم ہو گئے اور اسرائیل کا امریکہ سے خریداری اور ہم آہنگی پر انحصار بڑھ گیا۔
اس صہیونی مصنف نے نشاندہی کی کہ اگر ٹرمپ کے بیانات درست ہیں تو نیتن یاہو نے اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات کو اپنے سیاسی مفادات پر قربان کر دیا اور صہیونی سیکیورٹی اداروں کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا۔
زیو نے کہا کہ نیتن یاہو نے اس اقدام سے صہیونیوں کے ساتھ غداری کی ہے، لیکن اگر اس بارے میں ٹرمپ دعویٰ جھوٹا ہے تو اسرائیل کے وزیراعظم نے اس بارے میں خاموشی کیوں اختیار کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ