اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ویانا میں ایرانی نمائندگی نے بدھ کی شام سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا: رافائل گروسی نے ایک بار پھر ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، لیکن ایران کی زیرِ حفاظت پُرامن جوہری تنصیبات پر غیر قانونی بمباری کے بارے میں خاموش رہے۔
ایرانی نمائندگی نے مزید کہا: ’’ان جارحانہ اقدامات نے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے منشور کی بنیادوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ رافائل گروسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایجنسی کے حساب کتاب کے مطابق ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے میں سے ایک گرام بھی کسی غیر مجاز مقصد کی طرف منتقل نہیں ہوا۔ خود گروسی کی رپورٹوں میں بھی ایسے مواد کے ایک گرام کے انحراف کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
ویانا میں ایرانی نمائندگی نے مزید وضاحت کی: ’’جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) میں یورینیم کی افزودگی کی سطح کے لیے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اور کسی کو بھی اپنی طرف سے کوئی مصنوعی حد مقرر کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
بیان کے اختتام پر ایرانی نمائندگی نے سوال اٹھایا: ’’یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ دنیا بھر میں جمع شدہ اسلحہ سازی کے درجے کے جوہری مواد اور پلوٹونیم کے بڑے ذخائر پر تشویش کا اظہار کیوں نہیں کرتے، جن میں غیر جوہری ممالک میں موجود ذخائر بھی شامل ہیں؟
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کا دعویٰ ہے کہ ایران یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والا واحد ملک ہے جو اس سطح تک افزودگی کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ