بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں بھاری شکست ہوئی اور اکثریت ڈیموکریٹس کے قبضے میں چلی گئی۔ اس شکست کے بعد ٹرمپ حکومت کے اندر سے ہی اعترافات سامنے آ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا اور شکست کے اسباب کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کا خلاصہ:
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت ہی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی اصل وجہ ہے۔
وینس نے بتایا کہ 2024 میں ٹرمپ/وینس کو ووٹ دینے والے بہت سے ووٹرز 2026 میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دے بیٹھے۔
انھوں نے ایک سیاسی تجزیہ کار کے حوالے سے کہا کہ وہ لوگ جو انہیں چھوڑ گئے، ان سے پوچھنے پر چار اہم مطالبات سامنے آئے:
1۔ جنگ ختم کرو،
2۔ زندگی کی لاگت اور افراطِ زر پر توجہ دو،
3۔ امریکہ کو ترجیح دو،
4۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل کرو۔
وینس نے کہا کہ "ہماری شکست کی اصل وجہ جنگ ہے، خود صدر نے بھی کل رات یہی کہا"۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ دلیل دینا چاہے کہ سینٹ کی 6 سالہ اکثریت کھو دینا اس جنگ کی قیمت تھی، تو یہ کم از کم ایک دیانت دارانہ موقف ہوگا۔
اہم نکات:
• نائب صدر کا اعتراف ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ "جنگ اپنی قیمت کے لائق تھی (یعنی بجا تھی)" ـ یعنی وینس کے الفاظ بالواسطہ طور پر ٹرمپ پر تنقید کے زمرے میں آتے ہیں۔
• کانگریس میں شکست ٹرمپ حکومت کے لئے مشکل دنوں کا سبب بن سکتی ہے: ایک طرف وہ اپنی پالیسیاں آگے بڑھانے میں رکاوٹ کا شکار ہوگا، دوسری طرف کانگریس کی جانب سے کابینہ اور حکومتی عہدیداروں کو مختلف قسم کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
• وینس نے اپنی پارٹی کے ناراض حامیوں سے اپیل کی کہ وہ غصے کی توانائی ایسے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں صرف کریں جو ان ہی جیسی سوچ کے حامل ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ