3 نومبر 2026 - 10:00
ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کے کوہِ کلنگ پر حملے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے کوہِ کلنگ کو فوجی حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایک گھنٹے کے اندر اس مقام کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ ان کے یہ متضاد بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وہ بیک وقت یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کا خواہاں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتا طے پانے کے امکانات بھی روشن ہیں۔

اہلِ بیت(ع) انٹرنیشنل نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر نے پیر کی شب امریکی وقت کے مطابق ایک بار پھر ایران کے کوہِ کلنگ کو حملے کی دھمکی دی۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے کوہِ کلنگ پر ممکنہ امریکی حملے کے بارے میں دعویٰ کیا: ’’ممکن ہے ہمیں کوہِ کلنگ کی طرف جانا پڑے، لیکن یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں۔ ہم یہ کام ایک گھنٹے میں کر سکتے ہیں، جب چاہیں اور جس وقت چاہیں۔‘‘

امریکی صدر نے ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست کے سیاسی اثرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری صورتحال، بعض ناقدین کے دعوؤں کے برعکس، کوئی مکمل اور مسلسل جنگ نہیں ہے۔ ان کے بقول، ایران اس وقت شدید معاشی اور فوجی مشکلات سے دوچار ہے اور واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اثرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ’’جنگ کیا ہوتی ہے؟ جنگ کا مطلب لڑائی ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کو دیکھیے۔ آپ نے آخری بار ہمیں ان کے ساتھ لڑتے ہوئے کب دیکھا؟ کئی کئی ماہ گزر جاتے ہیں اور ہم بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک ہلکی پھلکی جنگ ہے۔‘‘

امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنے دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا: ’’ہم نے انہیں بہت بڑا نقصان پہنچایا اور انتہائی شدید حملے کیے۔ ان حملوں نے ان کی بحریہ کو تباہ کر دیا۔ ان کے 159 جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے معاہدے کے امکانات کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی ایران کو دوبارہ حملے کی دھمکی بھی دی۔ ان کا کہنا تھا: ’’اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو ایسا ہو سکتا ہے، لیکن وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے حد خواہش مند ہیں۔ ہمارے پاس معاہدہ طے پانے کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔‘‘

امریکی صدر نے ایران کی مذاکراتی پوزیشن کے بارے میں دعویٰ کیا: ’’وہ مذاکرات کے لیے اچھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہماری وجہ سے ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ وہاں افراطِ زر کی شرح 301 فیصد ہے۔ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں دے رہے۔‘‘

ٹرمپ نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں بھی دعوے کرتے ہوئے کہا: ’’ان کی مسلح افواج ختم ہو چکی ہیں، بحریہ تباہ ہو چکی ہے، فضائیہ ختم ہو چکی ہے اور فضائی دفاعی نظام بھی تباہ ہو چکا ہے۔ ان کے پاس اب بھی کچھ میزائل موجود ہیں، لیکن زیادہ نہیں، اور مزید میزائل بنانے کی صلاحیت بھی بہت محدود ہے۔ ان کے پاس ڈرونز بھی ہیں، مگر ان کی تعداد زیادہ نہیں اور مزید ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی محدود ہے۔‘‘

ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس سے چند گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ تیل کی قیمت ’’پتھر کی طرح‘‘ نیچے آ رہی ہے، کیونکہ لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے اپنی اس پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران جلد از جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha