بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ریٹائرڈ امریکی فوجی افسر اور اقوام متحدہ کا سابق اسلحہ انسپکٹر اسکاٹ رٹر کہتے ہیں: میں دیکھ رہا ہوں کہ سعود عرب کو تزویراتی شکست ہوئی ہے، اس کی معیشت ابھی اسی وقت بھی زوال سے دوچار ہے؛ سعودیوں کو پاس زوال کا یہ عمل الٹ دینے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔ جتنا چاہو اسلحہ یمن بھیجو لیکن سعودی ڈھانچوں کو کسی صورت میں بھی نہیں بچا سکو گے۔
ویڈیو کی تفصیل:
اسکاٹ رٹر نے کہا:
میں سعودی عرب کی تزویراتی شکست دیکھ رہا ہوں، اس ملک کی معیشت اسی وقت بھی بری طرح تباہی اور زوال سے دوچار ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے، عالمی منڈی اس خطے کے تیل سے محروم ہوئی ہے۔
سعودی عرب نے اپنا 70 فیصد تیل پائپ لائن کے ذریعے ینبع اور نہر سوئز کے ذریعے برآمد کرنا شروع کیا تھا لیکن وہ پائپ لائن بھی کام سے گئی ہے۔
انصار اللہ نے سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے شروع کئے ہیں۔ وہ مزید تیل کے ذخائر اور ٹینکوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ تیل کے کنوؤں پر بھی حملہ کرتے ہیں؛ سعودی برآمدی صلاحیت کا خاتمہ کرتے ہیں جس کا مطلب ہے سعودی حکمرانی کا خاتمہ۔
سعودیوں کے پاس یہ پیشرفت الٹ دینے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے۔
جتنا چاہو فرانسیسی ہتھیار سعودی عرب میں بھیج دو، پھر بھی انصار اللہ کے ہاتھوں سعودی تیل کے ڈھانچوں کی تباہی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکو گے۔
ان حملوں کے مقابلے میں کوئی دفاعی نظام نہیں ہے، اور انصار اللہ کو جتنا بھی نقصان پہنچا دو، یہ عمل نہیں رکے گا۔
انصار اللہ کی افواج پرعزم ہیں
وہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہیں اور بن سلمان کو ہٹا کر، اور سعودی حکومت کو منہدم کرکے وہ پوردی دنیا کی بہت بڑی خدمت کریں گے۔
یہ واقعہ بڑی تبدیلیوں کا نقطہ آغاز بنے گا؛ اور خلیج فارس میں واقع شیخڈمز اور امارتیں یکے بعد دیگرے اسی قسم کے انجام سے دوچار ہونگی؛ کیونکہ ان ریاستوں کے عوام اپنی حکومتوں پر اعتماد کھو رہے ہیں۔
اس خطے کی کمزوری یہی ہے۔
یہ جعلی حکومتیں ہیں جنہیں امریکہ اور برطانیہ نے قائم کیا ہے، ان ریاستوں نے استعمار کے بعد کے دور سے جنم لیا ہے، صرف اس لئے قائم رہی ہیں کہ وہ پیسہ دے کر ہم مشکل کو حل کرتی رہی ہیں۔
میرے خیال میں سعودی عرب کے راہنماکے طور پر محمد بن سلمان کا دور بہت جلد اختتام پذیر ہوگا۔
میرے خیال میں وہ جزیرہ نمائے عرب سے بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا اور امریکہ یا لندن میں کسی ایک بنگلے میں پناہ لے گا یا پھر مارا جائے گا۔
محمد بن سلمان ایک ناکام ریاست کا ناکام راہنما ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آبنائے ہرمز کھلا ہے، ٹرمپ / امریکہ نے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے دور رہنے کا مشورہ دیا
گوکہ ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے، اس ملک کی بحریہ نے آج بحری جہازوں کو اس اسٹراٹیجک آبی گذگاہ سے گذرنے کے بارے میں خبردار کیا۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ نے ـ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر کے دعوؤں کے برعکس ـ بدھ کے روز بحری جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں۔
امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا: "موجودہ جغرافیائی-سیاسی صورتحال کے پیش نظر، ان بحری جہازوں کو ـ جنہیں اس علاقے سے گذرنے کی ضرورت نہیں ہے ـ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے دور رہیں۔"
آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت اس سال 28 فروری سے، ـ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا ـ خلل سے دوچار ہے۔
امریکی بحریہ کا بیان ایسے وقت میں جاری ہؤا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ نے سینکڑوں مرتبہ دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔
چند دن پہلے بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکرٹری جنرل آرسنیو دومینگز (Arsenio Dominguez) نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی غیر محفوظ ہے۔
انھوں نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "ہمارا پیغام واضح ہے: بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نہیں گذرنا چاہئے۔"
ڈومینگز نے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لئے ایران کے ساتھ مذاکرات پر پر زور دیا۔
انھوں نے واضح کیا: "اسی لئے، میں پھر زور دیتا ہوں کہ آبنائے ہرمز سے گذرنا غیر محفوظ ہے اور مذاکرات کو محفوظ بنانے کے لئے ایران کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ، اس سے پہلے کہ بحری جہازوں کے ملاحوں کی جانیں یا بحری جہازوں کی حفاظت خطرے میں پڑے، ضروری ضمانتیں فراہم کی جائیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ