بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ شام کے شہروں میں صہیونیوں کی مسلسل جارحیتوں کے خلاف مظاہرے، صہیونی جارحیتوں کے مقابلے میں، دمشق میں تعینات الجولانی ٹولے کی معذرتخواہانہ پالیسیوں اور مجرمانہ خاموشی پر احتجاج کیا گیا۔

شام کے صوبے درعا، قنیطرہ، دمشق، دوما، حمص، ادلب، حماہ، رقہ، حسکہ اور دیرالزور تک کئی شہروں میں شامی عوام سڑکوں پر نکلے۔

مظاہرین نے شامی پرچم اور صہیونی جارحیتوں کے خلاف نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے؛ اور "ہم سب معاذ ہیں" اور "شام قابضوں کے کھیل کا میدان نہیں بنے گا" جیسے نعرے لگائے۔

یہ مظاہرے صہیونی رجیم کی مسلسل جارحیتوں کے خلاف تھے جن میں دیہاتوں پر حملے، گھروں پر دھاوے، شہریوں کی گرفتاری اور زرعی زمینوں کی بلڈوزروں سے تباہی شامل ہے۔
مظاہروں کا محرک درعا کے مغربی مضافات میں واقع حوض الیرموک کے علاقے کے گاؤں جملہ صہیونی حملے کے نتیجے میں ایک معذور نوجوان معاذ سلامہ البعیر کی شہادت تھی۔
اطلاعات کے مطابق، صہیونی فوجیوں نے گاؤں پر دھاوا بول دیا، مشرقی محلے میں پوزیشن سنبھالی اور گھروں کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کیے، پھر البعیر پر فائرنگ کی، جو سماعت سے معذور تھا اور قابض فوجیوں کی انتباہی آوازیں نہیں سن سکتا تھا۔



مظاہرین نے اس واقعے کو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سرحدی دیہات کا مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا قومی مسئلہ ہے۔
مظاہروں میں دمشق پر مسلط القاعدہ کی شاخ 'تحریر الشام' کے دہشت گرد ٹولے اور اس کے سرغنے ابو محمد الجولانی کی حکومت کی معذرتخواہانہ پالیسیوں اور مجرمانہ خاموشی پر بھی تنقید کی گئی، جو صہیونی جارحیتوں پر خاموش رہتی ہے۔
شام میں 2024 کے اواخر سے جاری سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیوں کے بعد اس ملک کی قومی خودمختاری غارت ہو گئی اور شام اسرائیل کا دست نگر ملک بن گیا جس کی وجہ سے شامی عوام شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ