اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا ہے کہ اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق 1955ء کا قانون ختم کرنے کی تجویز پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان کے استحکام اور تحفظ کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے اور تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے کشیدگی اور اندرونی اختلافات میں اضافہ ہو۔
نبیہ بری نے لبنان میں فرقہ وارانہ نوعیت کی کشیدگی کے آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ قابل قبول ہے کہ کسی لبنانی شہری کو صرف اس کے فرقے سے تعلق کی بنیاد پر ملک کے کسی دوسرے علاقے میں جائیداد خریدنے سے روک دیا جائے؟
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کرنے کے لیے امریکی دباؤ اور بعض ارکان پارلیمنٹ کی کوششوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہوں گی۔
اخبار الاخبار کے ساتھ گفتگو میں امریکی دباؤ اور بعض ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اس قانون کو ختم کرنے کی کوششوں سے متعلق سوال کے جواب میں نبیہ بری نے کہا: ’’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حالات بے قابو اور بے ضابطہ ہو چکے ہیں اور ملک پر کسی کا کنٹرول نہیں رہا، وہ غلطی پر ہیں۔ لبنان ابھی بے قابو نہیں ہوا۔‘‘
انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا: ’’میں پوری بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی اس معاملے پر قانون کا مسودہ پیش کرے۔‘‘
نبیہ بری کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بیروت میں امریکی سفیر میشل عیسیٰ نے گزشتہ ہفتے اسرائیل سے تعلقات کو جرم قرار دینے والے قانون کو ختم کرنے کے معاملے پر نبیہ بری کی رضامندی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا: ’’آپ ہمیشہ نبیہ بری کو درمیان میں لے آتے ہیں۔ کیا فیصلے صرف نبیہ بری ہی کرتے ہیں؟ ہمیں یہ معاملہ ختم کرنا چاہیے!‘‘
اپنے بیان کے ایک اور حصے میں نبیہ بری نے لبنان کے استحکام کو برقرار رکھنے میں تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری پر زور دیا اور ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا جن سے کشیدگی بڑھے اور اندرونی اختلافات مزید گہرے ہوں۔
آپ کا تبصرہ