بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی اخبار 'الاخبار' کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کا یمن کے آبنائے باب المندب پر دوبارہ قبضہ کرنے کا منصوبہ ایک بار پھر شکست سے دوچار ہو گیا ہے؛ کیونکہ جن ملیشیاؤں نے سعودی حکمرانوں کو وعدہ دیا تھا کہ وہ اس بین الاقوامی آبنائے کو چند دنوں میں واپس لے لیں گی، وہ اس کے جنوب میں اپنے پہلے والے ٹھکانوں کو بھی برقرار نہ رکھ سکیں اور اپنے پرانے مورچوں سے بھی پسپا ہو گئے۔
دوسری قسط:
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب انصاراللہ گذشتہ ایام کے دوران اس آبنائے کی سلامتی ضمانت فراہم کرنے اور سعودی جہازوں کے سوا، تمام بین الاقوامی جہازوں کی روانی سے گذرنے کی براہ راست نگرانی کرنے میں کامیاب رہی تھی۔
سعودی عرب کے اس جزیرے پر حملوں کے ساتھ ہی، جہاں سے انصاراللہ کی افواج بحری آمدورفت کی نگرانی کرتی ہیں، ریاض کی اتحادی ملیشیاؤں کو باب المندب کے جنوبی علاقوں سے 'اچانک' پسپائی اختیار کر لی۔
میدانی ذرائع نے روزنامہ "الاخبار" کو بتایا کہ "درع الوطن" نامی اجرتی ملیشیا کی یونٹوں نے گذشتہ روز ضلع ذوباب کے جنوب مغربی علاقوں، اس کے مشرقی حصوں اور لحج صوبے کے مغرب میں راس العارہ کے علاقے سے پسپائی اختیار کی اور خور عمیرہ اور شہر عدن کی طرف پسپا ہو گئیں! یہ پسپائی اس کے چند گھنٹے بعد ہوئی جب سعودیہ کی اجرتی "العمالقہ" نامی ملیشیا کے دستوں نے راس العارہ میں کئی پوزیشنیں چھوڑ دی تھیں۔
یہ پسپائیاں اس وقت حاصل ہوئیں جب انصاراللہ نے راس العارہ کے علاقے میں واقع السقیا کے علاقے میں ان اجرتی افواج کی پوزیشنوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس سے مذکورہ ملیشیاؤں کی افرادی قوت اور سازوسامان کو بھاری نقصان پہنچا۔ یہ حملے انصاراللہ کی اس ہفتے کے وسط میں ذوباب کے مشرق میں فوجی کارروائی کے بعد بھی جاری رہے۔
انصاراللہ کی افواج نے "درع الوطن" کے اجرتیوں کے خلاف بھی اپنے حملے بڑھا دیئے جو المضاربہ کے علاقوں کی طرف پسپا ہو گئے تھے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق، دو دن پہلے شام کو راس العارہ اور المضاربہ میں سعودیہ کی اجرتی ملیشیاؤں کے اجتماعات کو تین بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان ٹولوں کے کئی کمانڈر اور گماشتے ہلاک ہوگئے۔
میدانی ذرائع کی معلومات کے مطابق، اس کارروائی نے "درع الوطن" کے اجرتی دستوں کے پانچویں بریگیڈ کو بھی نشانہ بنایا؛ یہ بریگیڈ اس وقت الصبیحہ کے علاقے میں کچھ علاقوں پر حملے کی تیاری کر رہا تھا جنہیں اس سے پہلے انصاراللہ کی افواج نے آزاد کرایا تھا۔
اس حملے کے نتیجے میں بریگیڈ کا کمانڈر منصور الترکی اپنے کئی ساتھیوں اور اپنے بیٹے سمیت زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازيں، بریگیڈ کا چیف آف اسٹاف ودیع البہاء اور آپریشن کمانڈر محمد عبدہ حجیف المشولی سمیت مختلف دستوں کے کئی سرغنوں سمیت، ہلاک ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: پریسا فیضی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ