15 اکتوبر 2026 - 15:40

عراق کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں نامعلوم فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات کے بعد ملکی خودمختاری کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ عراقی پارلیمان کے ارکان نے اقوام متحدہ میں باضابطہ شکایت درج کرانے اور ملک کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے سابق رکن پارلیمان باسم الغریبوی نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف ملک کو ایک متفقہ سیاسی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان خلاف ورزیوں کے بارے میں باضابطہ اقدامات کیے جائیں اور اقوام متحدہ میں شکایت درج کرائی جائے، تاکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت عراق کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

الغریبوی نے کہا کہ عراق اقوام متحدہ کا رکن ہے اور اس حیثیت کے تحت اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان خلاف ورزیوں کا مقابلہ سفارتی اور قانونی طریقوں سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی بیانات اور زبانی مذمت پر اکتفا کیا جائے۔

عراق کے سابق رکن پارلیمان نے وضاحت کی کہ قومی خودمختاری کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا اطلاق تمام شعبوں پر ہونا چاہیے۔ ان میں سب سے اہم ملک کی فضائی حدود اور سرزمین کا تحفظ، نیز سلامتی اور معیشت سے متعلق فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا اختیار ہے، تاکہ حکومت بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوری نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کی صلاحیت کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دفاعی صلاحیتوں کی کمی غیر ملکی فوجی سرگرمیوں اور عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

الغریبوی نے ماضی کے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا جن میں، ان کے بقول، دوسرے ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے عراق کی فضائی حدود استعمال کی گئی تھیں۔

دوسری جانب، عراقی رکن پارلیمان احمد شہید نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو دوسرے ممالک کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے عراق کی خودمختاری کے احترام اور اس کی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا میدان بننے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

احمد شہید نے مزید کہا کہ عراقی پارلیمان پہلے بھی مطالبہ کر چکی ہے کہ فوج کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جائیں، تاکہ عراقی فضائی حدود کے تحفظ اور ملک یا اس کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔

عراقی رکن پارلیمان نے کہا کہ اسلحے کی خریداری کا معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے عراق کے لیے اسلحے کی فراہمی کے ذرائع متنوع بنانے اور جدید فضائی دفاعی نظام خریدنے کے لیے مغربی اور ایشیائی ممالک سے بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان ممالک میں روس، چین، جنوبی کوریا اور فرانس سمیت وہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں جن کے پاس اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔

تازہ پیش رفت میں، ویب سائٹ 964 نے 14 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عراقی حکام اس نامعلوم فضائی سرگرمی کی تحقیقات کر رہے ہیں جسے رواں ماہ یکم سے 12 اکتوبر کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ سرگرمیاں عراق میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کے مشن کے 30 ستمبر کو اختتام پذیر ہونے کے بعد سامنے آئیں۔ تاہم، اب تک ان طیاروں کی شناخت یا ان کی سرگرمیوں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha