اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، مہدی المشاط نے 14 اکتوبر کو یمنی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے برطانوی استعمار کے خلاف یمنی عوام کی جدوجہد کو یاد کیا اور موجودہ حالات کا موازنہ آزادی کی اس تاریخی تحریک سے کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سعودی عرب کی مبینہ مداخلت اور قبضے کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔
یمنی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب گزشتہ 12 برس سے یمن پر حملے اور محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ جدوجہد کا مقصد اس صورتحال کو ختم کرنا، قومی وسائل اور دولت واپس حاصل کرنا اور غیر ملکی افواج کو یمنی سرزمین سے نکالنا ہے۔ المشاط نے یمنی فورسز پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ فوجی اجتماعات اور سرگرمیوں کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے مخالفین کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے رہائشیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ سعودی عرب کے فوجی منصوبوں میں شریک نہ ہوں۔
مہدی المشاط نے سعودی عرب کو شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یمن کو ان حملوں کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سعودی عرب سے وابستہ فورسز نے ذوباب کے اطراف یمنی مسلح افواج کے متعدد قیدیوں کو گولیاں مار کر اور امریکی بکتر بند گاڑیوں تلے کچل کر قتل کیا۔ انہوں نے اس واقعے میں ملوث افراد کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
یمنی صدر نے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے حوالے سے کہا کہ جہاز رانی محفوظ ہے اور یمن اس سلسلے میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی کرتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول، سعودی عرب کی جانب سے باب المندب کو جنگی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوششیں بحری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کی مذمت کرے۔
خطاب کے اختتام پر المشاط نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن کے خلاف حملوں میں شریک ہونے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوششیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد خطے کے ممالک کو کمزور کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ