13 اکتوبر 2026 - 16:25
بارزانی کی ایران مخالف مسلح گروہوں کو تنبیہ؛ کردستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے

عراق کے کردستان خطے کے سربراہ نچیروان بارزانی نے ایران کے خلاف کارروائی کرنے والے مسلح گروہوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کردستان کو ایران کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے اڈے میں تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نچیروان بارزانی نے  ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی ریاست کی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں لڑائی شروع ہوتے ہی کردستان خطے نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی اور سرحد کے ساتھ سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے تھے۔

انہوں نے اربیل میں مشرقِ وسطیٰ کے تحقیقی ادارے کے زیر اہتمام ہونے والے ’’مجمعِ مری‘‘ کے موقع پر ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں تھی اور کردستان خطے کو ایران کے خلاف خطرہ پیدا کرنے کے اڈے میں تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘

بارزانی نے خبردار کیا کہ کسی بھی مسلح گروہ کو کردستان کی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کو دھمکانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی بین الاقوامی سطح پر ناقابلِ قبول ہے اور عراق کے قوانین اور آئین کے تحت بھی ممنوع ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے وقت سے ہی کردستان خطے کی پالیسی یہ رہی ہے کہ اسے اس جنگ سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔

بارزانی نے مزید کہا کہ اسی مقصد کے تحت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) روزانہ کی بنیاد پر بغداد اور کردستان کی پیٹریاٹک یونین (پی یو کے) سے رابطے میں رہی ہے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود کرد جماعتیں اور بغداد اہم تزویراتی معاملات پر متفق ہیں اور کردستان خطے کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔

ایران مخالف مسلح گروہوں کے کئی دہائیوں سے کردستان خطے میں اڈے موجود ہیں۔ اس سے قبل بعض ذرائع نے بتایا تھا کہ دو ڈرونز نے اربیل کے مشرق میں واقع علاقے کویہ میں علیحدگی پسند گروہوں کے ایک اڈے، جسے ’’آزادی‘‘ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بنایا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha