7 اکتوبر 2026 - 16:21
آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس: طالبان اور پاکستان کے اختلافات، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

افغانستان کے بارے میں آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں طالبان اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی اور سلامتی کے معاملے پر شدید اختلافات کے باعث دونوں فریق اختتامی اعلامیے کے متن پر اتفاق نہ کرسکے اور مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جاسکا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان کے بارے میں آٹھواں ماسکو فارمیٹ اجلاس پیر 13 مہر کو ماسکو میں منعقد ہوا، جس میں افغانستان، ایران، روس، چین، بھارت، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بیلاروس اور مصر نے بھی مہمان کی حیثیت سے اجلاس میں شرکت کی۔

علاقائی سلامتی، دہشت گردی اور منشیات کے خلاف جدوجہد، اقتصادی تعاون اور افغانستان کے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توسیع اجلاس کے اہم موضوعات تھے۔ تاہم طالبان اور پاکستان کے درمیان اختلافات اجلاس میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔

افغانستان کے امور میں روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے بتایا کہ افغانستان اور پاکستان کے دونوں وفود اختتامی اعلامیے کے متن پر اتفاق نہیں کرسکے۔ ان کے مطابق طالبان کے وفد نے ان جملوں پر اعتراض کیا جن میں افغانستان کو متعدد مرتبہ ’’دہشت گردی‘‘ کے معاملے سے جوڑا گیا تھا۔ کابلوف نے کہا کہ یہ جملے گزشتہ سال کے اعلامیے میں بھی شامل تھے، تاہم کابل نے اس سال انہیں ناقابل قبول قرار دیا۔

افغانستان کے امور میں پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے اس کے برعکس کہا کہ اسلام آباد نے دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان کے ساتھ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا ہے، تاہم ان کے بقول افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ حملے طالبان کی حمایت سے کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے مزید زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو افغانستان کا بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے مسائل ’’بات چیت اور سفارت کاری‘‘ کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر افغانستان کے خلاف فوجی دباؤ، مہاجرین، طلبہ اور تجارتی راستوں کے معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ اختلافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ ہفتوں کے دوران سرحدی جھڑپوں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات کے باعث کابل اور اسلام آباد کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ اگر دونوں فریق درخواست کریں تو وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کے باوجود روس نے زور دیا ہے کہ اس کا مطلب ’’ماسکو فارمیٹ‘‘ کا خاتمہ نہیں ہے اور افغانستان کے حوالے سے علاقائی تعاون اور رابطہ کاری کے لیے یہ طریقہ کار جاری رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha