7 اکتوبر 2026 - 16:20
ایران کے 111 پیٹروکیمیکل اور ادویات کے مراکز امریکی صیہونی حملوں سے متاثر ہوئے: ایرانی نمائندہ

ہیگ میں ایرانی نمائندے ہادی فرجوند نے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے 60 پیٹروکیمیکل مراکز، 44 ادویات ساز کارخانے اور 7 ادویاتی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس سے رسد کی فراہمی اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر عمل درآمد متاثر ہوا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہیگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے منگل کے روز کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے 113ویں اجلاس میں ہادی فرجوند کی تقریر کے بعض حصے جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حملوں کے دوران ایران میں 60 پیٹروکیمیکل مراکز، 44 ادویات ساز کارخانے اور 7 ادویاتی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

فرجوند نے ان حملوں کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کیمیائی اور ادویاتی صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان سے رسد کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن سے متعلق ذمہ داریوں پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم میں ایران کے مستقل نمائندے نے مزید کہا کہ مسلح تنازعات کے دوران کیمیائی تنصیبات کا تحفظ اس کنونشن کی بقا، کیمیا کے پرامن استعمال اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ان تنصیبات پر دانستہ حملوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی دفعات ایک، 6 اور 11 کے ساتھ ساتھ اس بین الاقوامی دستاویز کے مقاصد اور اہداف کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔

کنونشن کے متن کے مطابق، دفعہ ایک رکن ممالک کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق عمومی ذمہ داریوں، دفعہ 6 ممنوع نہ ہونے والی کیمیائی سرگرمیوں، جبکہ دفعہ 11 کیمیائی شعبے میں پرامن سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی و تکنیکی ترقی پر زور دیتی ہے۔

فرجوند نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن پر امریکا کی پاسداری سے متعلق ایران کے خدشات کا ایک بار پھر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان خدشات میں صیہونی ریاست کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام میں واشنگٹن کا کردار اور امریکا کا غیر مہلک اور ناکارہ بنانے والے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق پروگرام بھی شامل ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان خدشات کے سامنے آنے کے دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مسائل اب بھی حل طلب ہیں اور ان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha