اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا کی شیعہ فاؤنڈیشن (SMF) نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ پورے امریکا میں مساجد اور مسلمانوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کی لہر نے اسلامی اداروں کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 تک مسلمانوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے 38 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس ملک میں مسلم برادری کو درپیش جسمانی خطرات میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
واشنگٹن کے علاقے میں تشویش کا ایک اہم واقعہ شمالی ورجینیا میں واقع اسلامی مرکز ’’ایڈمز‘‘ (ADAMS Center) سے متعلق ہے۔ مرکز کے انسٹاگرام پیج پر ایک پیغام سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جس میں ایک شخص نے ایک تقریب میں دھماکہ خیز مواد بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔ پولیس کی تحقیقات کے نتیجے میں 50 سالہ ’’آدم سایر‘‘ کی شناخت ہوئی، اسے گرفتار کیا گیا اور بم دھماکے کی دھمکی دینے کے الزام میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔
کیلیفورنیا میں بھی وفاقی استغاثہ نے 60 سالہ ’’لوئیس وائٹ‘‘ پر تمکیولا ویلی اسلامک سینٹر کو دھمکی آمیز خط بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس خط میں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی اور ایک توہین آمیز تصویر شامل تھی۔ وفاقی تحقیقات کے بعد ملزم کے گھر کی تلاشی لی گئی، جہاں بغیر اجازت رکھنے والے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے، جن میں ایک ایسا نیم خودکار رائفل بھی شامل تھا جس پر سیریل نمبر درج نہیں تھا۔
ستمبر میں مشی گن کے شہر ٹرائے میں بھی ایک واقعہ پیش آیا، جہاں 79 سالہ ’’پیٹر ہیملٹن نارتھ اپ‘‘ نے ایک عوامی کتب خانے کے قریب اسلام اور قرآن کے بارے میں گفتگو کرنے والے چار مسلمان افراد کو قتل کی دھمکی دی۔ اس شخص کو نفرت پر مبنی مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے اس کے گھر سے 19 ہتھیار بھی برآمد کرکے قبضے میں لے لیے۔
یہ خدشات صرف براہِ راست مجرمانہ دھمکیوں تک محدود نہیں رہے۔ ٹیکساس میں شیعہ فاؤنڈیشن کے سکیورٹی بلیٹن میں سرکاری ہائی اسکولوں میں مسلمان طلبہ اور اسلامی انجمنوں کے خلاف آن لائن حملوں اور دباؤ کے ساتھ ساتھ پلانو میں کولن کاؤنٹی اسلامک ایسوسی ایشن کے مظاہرین کے سامنے تقریباً 50 افراد کے اجتماع کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی موجودگی اور گشت کے ذریعے قابو میں رکھا گیا۔
رپورٹ میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت محفوظ زبانی احتجاج یا تنقید اور خطرناک پرتشدد دھمکیوں یا بم دھماکوں کے درمیان فرق موجود ہے۔ اختلافِ رائے کا اظہار یا احتجاجی اجتماع لازماً جرم نہیں ہوتا، تاہم جان کو لاحق معتبر خطرات اور بم دھماکوں کی دھمکیوں پر قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے سنجیدہ کارروائی ضروری ہوتی ہے۔
اسی سلسلے میں امریکا کی سائبر سکیورٹی اور انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (CISA) نے مذہبی مقامات کی سکیورٹی کے لیے متعدد سطحوں پر مشتمل اقدامات کی سفارش کی ہے، جن میں سکیورٹی ذمہ داروں کا تعین، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے منصوبے تیار کرنا، خطرات اور کمزوریوں کا جائزہ لینا اور دینی مراکز اور ان سے وابستہ اسکولوں کے مختلف حصوں کی حفاظت شامل ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر امریکا کی شیعہ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ’’راحت حسین‘‘ نے زور دیا کہ مسلم برادریوں کو خوف کا شکار ہوکر عوامی زندگی سے پیچھے ہٹنے کے بجائے سنجیدہ سکیورٹی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور پولیس کے ساتھ مضبوط رابطہ قائم کرنے اور اپنے عملے کی تربیت کے ذریعے اپنی دینی و سماجی سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنانا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ