ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ان حالیہ میڈیا اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تہران میں رہ رہے ہیں۔ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ القاعدہ کے لیڈر تہران میں نہیں،بلکہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں رہ رہے ہیں۔ایرانی صدر نے بدھ کے روز اے بی سی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دنیا کو یقین ہوجانا چاہیے کہ اسامہ بن لادن واشنگٹن میں ہیں۔ میرے خیال میں اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ وہیں یعنی واشنگٹن میں ہیں'۔اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش کیے بغیر ایرانی صدر نے کہا کہ 'انہوں نے سنا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکی دارالحکومت میں مقیم ہیں'۔ ان کا کہناتھا کہ 'میں کہتا ہوں کہ وہ وہیں ہے کیونکہ وہ مسٹر بش کا ماضی میں شراکت دار رہا ہے'۔ان کا اشارہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جانب تھا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ'درحقیقت گزرے دنوں میں وہ دونوں ساتھی رہے ہیں۔ وہ تیل کے کاروبار میں اکٹھے تھے۔ وہ اکٹھے کام کرتے رہے ہیں۔ مسٹر بن لادن نے کبھی ایران کے ساتھ تعاون نہیں کیا بلکہ انہوں نے مسٹر بش کے ساتھ تعاون کیا تھا'۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر امریکی حکام کو انتہا پسند اسلامی لیڈر کے بارے میں جاننا چاہیے۔انہوں نے اے بی سی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کے لیے افغانستان پر چڑھائی کی تھی۔امریکی غالباً یہ بات جانتے ہوں گے کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے؟ اگر وہ یہ بات نہیں جانتے تو پھر انہوں نے افغانستان پر چڑھائی کیوں کی تھی؟
.....
/110