اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حیفا کی فوجداری عدالت نے ایران سے رابطے کے الزام میں 32 سالہ نوجوان فارس ابوالہیجا کو 4 سال 7 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
صیہونی میڈیا کے مطابق، الجلیل کے علاقے میں واقع کوکب ابوالہیجا گاؤں کے رہائشی 32 سالہ فارس ابوالہیجا کو جنوری 2026 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا کہ اس نے ٹیلی گرام کے ذریعے ایک شخص سے رابطہ کیا، جس نے اپنا نام ’’مارٹن‘‘ بتایا تھا اور اس شخص کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے ایرانی انٹیلی جنس ادارے سے روابط ہیں۔ اب تک اسرائیلی میڈیا میں اس شخص کی کوئی تصویر شائع نہیں کی گئی۔
فرد جرم کے مطابق، ابوالہیجا کا اس شخص سے رابطہ ابتدا میں ملازمت کی پیشکش کے ذریعے ہوا، تاہم بعد میں اسے ایسے کام سونپے گئے جنہیں صیہونی استغاثہ نے ایران کے لیے انٹیلی جنس سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا۔
ابتدائی کاموں میں سے ایک کے طور پر اسے حیفا شہر اور کریات حییم کے علاقے میں کئی موبائل فون اور چارجر خرید کر مختلف مقامات پر چھپانے کا کام سونپا گیا۔
اس کے بعد ابوالہیجا نے ان آلات کے مقامات کی تصاویر بنائیں اور ان مقامات سے متعلق معلومات رابطہ کار کو بھیجیں۔
صیہونی استغاثہ کے دعوے کے مطابق، بعد میں اسے زخرون یعقوب میں ایک لفافہ پہنچانے کے لیے کہا گیا جس میں ایک کرپٹو کرنسی اکاؤنٹ تک رسائی کی معلومات موجود تھیں۔
اسے تل ابیب کے ایک کیفے کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا کام بھی سونپا گیا، جس کے بارے میں فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس کام کے بدلے اسے ایک ہزار ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی دی گئی۔
مبینہ طور پر اس کے کاموں کی نوعیت مزید حساس ہونے کے بعد ابوالہیجا کو عمیقام کی صیہونی بستی بھیجا گیا تاکہ صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ یوآو گالانت کی رہائش گاہ کے اطراف کی سڑکوں کی تصاویر بنائے۔
شائع شدہ رپورٹس کے مطابق، علاقے میں پہنچنے اور تصاویر رابطہ کار کو بھیجنے کے بعد ابوالہیجا کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا۔
صیہونی میڈیا نے گالانت کی رہائش گاہ کے اطراف دیگر افراد کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی رپورٹس شائع کی ہیں، تاہم ان تمام تفصیلات کی ابوالہیجا کے خلاف فرد جرم میں آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ مقدمہ ابتدا میں ’’غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے‘‘ کے الزام کے تحت شروع کیا گیا تھا اور اسرائیلی سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ابوالہیجا جس شخص سے رابطے میں تھا، وہ ایرانی انٹیلی جنس کا ایجنٹ تھا۔
ابوالہیجا کو 55 ماہ قید کی سزا ایسے وقت میں سنائی گئی ہے جب اسرائیلی سکیورٹی ادارے گزشتہ برسوں کے دوران متعدد مرتبہ ایسے شہریوں کی گرفتاری کا اعلان کرچکے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانی انٹیلی جنس عناصر سے رابطہ کیا اور رقم کے عوض مقبوضہ علاقوں کے اندر مختلف کام انجام دیے۔
گزشتہ ہفتے بدھ کے روز بھی صیہونی حکومت کی ایک عدالت نے مقبوضہ علاقوں کے شہر پتاح تیکوا کے رہائشی الیگزینڈر گرانووسکی کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
اس مقدمے میں بھی استغاثہ کے بیان کے مطابق ملزم کی سرگرمیوں کا آغاز آلات خریدنے، انہیں چھپانے اور عوامی مقامات کی تصاویر بنانے جیسے معمولی کاموں سے ہوا، جو بعد میں حساس معلومات جمع کرنے تک پہنچ گئے۔
آپ کا تبصرہ