اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن اور بعلبک۔ہرمل پارلیمانی بلاک کے سربراہ حسین الحاج حسن نے بعلبک میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ ہمیں چیلنجز، مشکلات اور پیچیدہ و سخت حالات کا سامنا ہے، لیکن ہم آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال کے مرکز میں ہیں، جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک گیلن ڈیزل کی قیمت 6.47 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے پہلے کبھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا امریکی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور امریکہ کو بھی مشکلات برداشت کرنا ہوں گی، کیونکہ ہم اس کے ساتھ جنگ میں ہیں اور جو بھی ہمارے خلاف دشمنی کرے گا، اسے بھی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ کیا وہ ہمیں بمباری کرکے تباہ کرنا چاہتے ہیں اور خود کسی نقصان کا سامنا نہ کریں؟ نہیں، انہیں بھی نقصان اٹھانا ہوگا۔
الحاج حسن نے علم کو تعمیر، مقابلے اور مزاحمت کے اہم میدانوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک باشعور اور آگاہ معاشرہ چاہیے، ایسا معاشرہ جو علم کے میدان میں نمایاں ہو۔ ہمیں سائنس دانوں کی ضرورت ہے، صرف ایسے لوگوں کی نہیں جو تعلیم حاصل کرتے ہوں۔
انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی ایک وجہ اس ملک کی سائنسی برتری کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مختلف علوم میں نمایاں ترقی کی ہے۔ انہوں نے اس جنگ کے دوران ایران کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان مراکز میں کیا کچھ موجود ہے۔ میں جوہری اور ہتھیاروں کے معاملات کی بات نہیں کر رہا بلکہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، جینیاتی انجینئرنگ، زراعت اور صنعت کی بات کر رہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران دنیا کے ان چار یا پانچ ممالک میں شامل ہے جو ایم ایس کی دوا تیار کرتے ہیں، جبکہ اعضا کی پیوند کاری اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی ایران دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ ایران میں یونیورسٹی طلبہ کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی مزاحمتی منصوبہ علم کو اپنی حکمت عملی کے مرکز میں رکھتا ہے؛ مقصد صرف تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ علم کے میدان میں برتری حاصل کرنا ہے۔
ہرمز اور باب المندب؛ مزاحمتی محور کا ہتھیار
الحاج حسن نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب مزاحمتی محور کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار ہیں جسے وہ دشمنوں کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے، اور یہ اس کے واحد ہتھیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی جھوٹ اپنا اثر کھو چکا ہے اور امریکی میڈیا نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی خبریں نشر کرنا شروع کردی ہیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے ردعمل ظاہر کیا اور سی این این، پولیٹیکو اور سی بی ایس جیسے میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
الحاج حسن نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع کا جھوٹ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بے نقاب ہوگیا جس میں امریکی فوج کے اسلحے اور گولہ بارود کی کمی کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کمی کو پورا کرنے میں پانچ سال لگیں گے۔
امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو اطلاع دی کہ وہ انہیں گولہ بارود فراہم نہیں کرسکتا، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ میں گولہ بارود استعمال ہوچکا ہے۔ یعنی جو کچھ کہا گیا، وہ سراسر جھوٹ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی حکومت روزانہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کی تعداد روزانہ کی اوسط کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آبنائے ہرمز کا حقیقی کنٹرول کس کے پاس ہے۔ ہمیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایرانی فوج، ایرانی قوم اور قیادت پر فخر ہے اور ہمیں ان کے ساتھ اتحاد پر بھی فخر ہے۔
الحاج حسن نے کہا کہ خود امریکی بھی امریکہ کی عالمی بالادستی میں کمی کی بات کر رہے ہیں۔ روس اور چین نے ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے امریکی قرارداد کے مسودے کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کیا، جبکہ متعدد ممالک نے ایران کی اقتصادی ناکہ بندی میں شرکت سے انکار کردیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مزاحمت کو ختم کرنے، ایران میں نظام کا تختہ الٹنے، عوام کو اکسانے یا ایران پر فوجی حملہ کرنے کی کوششیں سب ناکام ہوچکی ہیں۔
اسی حوالے سے الحاج حسن نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اگر کوئی حل طے پاتا ہے تو اس میں لبنان اور مزاحمت کی صورتحال کا تعین، اسرائیل کا انخلا اور جنگ بندی شامل ہونی چاہیے اور یہ معاہدے کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ثابت قدم ہیں؛ ہمارا ایک پروردگار ہے جس پر ہم توکل کرتے ہیں اور اپنے معاملات اس کے سپرد کرتے ہیں، اور وہ بہترین مددگار اور پشت پناہ ہے۔ ہمارے ساتھ ایسی قوم ہے جس کے ساتھ ہم متحد ہیں، ایک حامی ماحول، ایک مزاحمتی معاشرہ، مضبوط، توانا اور صبر کرنے والی مزاحمت اور ایران، یمن، عراق، فلسطین اور پورے خطے میں ہمارے باعزت اتحادی موجود ہیں۔ ہم اور وہ مزاحمت کے ایک ہی راستے پر ہیں؛ ہم اس راستے کو جاری رکھیں گے، ثابت قدم رہیں گے اور ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ