اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے خطباء نے ایک بیان میں خطابت اور دینی رہنمائی کے لیے اجازت نامے جاری کرنے اور ان امور کو منظم کرنے سے متعلق فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے پیروانِ اہل بیتؑ کی مذہبی شناخت اور مذہبی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شریعت نے اپنے پیروکاروں کو وعظ، خطابت اور دینی رہنمائی کی ترغیب دی ہے اور ان امور کو ان کے لیے جائز قرار دیا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں انہیں واجب کفائی قرار دیا ہے۔ شریعت نے واضح طور پر ان امور کی آزادی کو کسی بھی ایسے ادارے سے الگ قرار دیا ہے جو شرعی ادارے کے علاوہ ہو۔
بحرین کے خطباء نے مزید کہا کہ ملک میں مجالس عزا اور عزاداری کے جلوس سیکڑوں سال سے اسی بنیاد پر منعقد ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن امور کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے، ان کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں، جس طرح نماز، روزہ اور دیگر واجبات و دینی شعائر کی ادائیگی کے لیے بھی اجازت نہیں لی جاتی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ کسی بھی شکل میں تعاون قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور ایسا کرنا گناہ ہے، جو اہل بیتؑ کی خدمت کا لباس پہننے والوں سے صادر نہیں ہونا چاہیے۔
بحرین کے خطباء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ کسی بھی ادارے کی جانب سے اس نوعیت کے کسی اجازت نامے کے اجرا یا اسے حاصل کرنے کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسا کوئی سرکاری اجازت نامہ لینے پر رضامند ہوں گے۔
بیان کے آخر میں تمام خطباء، ذاکرین اور مداحوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی اہم ذمہ داری سنبھالیں۔
آپ کا تبصرہ