اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن یمن کے حوثی برسوں کی جنگ کے دوران مزید طاقتور کیوں ہوتے گئے؟ کے عنوان سے مضمون میں لکھا کہ مختلف ادوار میں انصار اللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے، تاہم ان کارروائیوں کا نتیجہ اس قوت کے مزید مضبوط ہونے کی صورت میں نکلا۔
رپورٹ کے مطابق انصار اللہ اب ایران کی حمایت کے ساتھ ایک اہم بحری گزرگاہ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے، سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس کی کارروائیوں کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق انصار اللہ کو روکنے کے لیے ایسے بہت کم آپشنز باقی بچے ہیں جنہیں پہلے آزمایا نہ جا چکا ہو۔
انصار اللہ کے امور کے محقق مائیکل نائٹس نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں انصار اللہ کو ایران کے علاقائی اتحادیوں میں نظریاتی طور پر انتہائی پرعزم اور جارحانہ گروہ قرار دیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انصار اللہ کے سپاہیوں کی تعداد 2015 میں تقریباً 30 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں لگ بھگ 3 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ یہ گروپ اپنے ہتھیاروں کا ایک قابل ذکر حصہ یمن کے اندر تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب کے میزائل شکن نظام کے ذخائر کی محدودیت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریاض کب تک انصار اللہ اور خطے میں ایران سے وابستہ گروہوں کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت برقرار رکھ سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں انصار اللہ کے مخالفین بعض محاذوں سے پیچھے ہٹے ہیں، جبکہ انصار اللہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب بظاہر دوبارہ ایک مکمل جنگ میں داخل ہونے سے گریزاں ہے، کیونکہ زمینی کارروائی طویل تنازع اور بھاری جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف امریکا بھی اس تنازع میں براہِ راست داخل ہونے میں بظاہر دلچسپی نہیں رکھتا۔
آپ کا تبصرہ