15 ستمبر 2026 - 12:06
بقائی: لامرڈ میں امریکی جنگی جرائم کے شہیدوں میں سے ایک افغان مہمان تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ کو شہر لامرڈ پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے ۲۱ افراد میں سے ایک افغانستان کا شہری تھا۔ انہوں نے رہائشی اور غیر فوجی علاقوں پر ہونے والے اس حملے کو جنگی جرم‘‘ قرار دیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں لامرڈ شہر کا دورہ کرنے والے ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے حوالے سے کہا کہ شہر میں فوجی حملے کے آثار غیر فوجی علاقوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بقائی نے کہا کہ لامرڈ میں تباہی کے مناظر جاری کی گئی تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ۳۰ ہزار آبادی والے شہر کے مرکزی حصے اور رہائشی علاقوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اس حملے میں متعدد ٹکڑوں پر مشتمل ایک میزائل اور ۵۰۰ کلوگرام وزنی چار میزائل استعمال کیے گئے، جن میں بڑی مقدار میں چھرے موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار اسٹیڈیم کے اطراف، رہائشی مکانات، بلڈ ٹرانسفیوژن سینٹر کے قریب اور تعلیمی مراکز سمیت مختلف علاقوں میں پھٹے۔

بقائی نے اس حملے کو جنگی جرم  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے پہلے روز ملک کے دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ لامرد میں تقریباً ۳۵ سیکنڈ کے دوران قریب دو ہزار کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، لامرد پر حملے میں ۲۱ افراد شہید ہوئے، جن میں افغانستان کا ایک شہری بھی شامل تھا جو اسی شہر میں مقیم تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha