11 ستمبر 2026 - 17:29
شیخ احمد قبلان: مزاحمت کا ہتھیار فروخت یا قابلِ سودے بازی نہیں، لبنان خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا

لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے کہا ہے کہ لبنان اپنی قومی خودمختاری کی کنجیاں کسی کے حوالے نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی دباؤ اور صیہونی مفادات کے سامنے جھکنے والے لبنانی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کا ہتھیار قابلِ فروخت یا سودے بازی کا موضوع نہیں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے ملک کی سیاسی صورتحال اور لبنانی حکام کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو صیہونی منصوبوں کے لیے ’’ٹروجن ہارس‘‘ کا کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ نمائشی اقدامات کا دور گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی علاقائی صورتحال آبنائے ہرمز اور باب المندب سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ ایک آزاد اور خودمختار لبنان ہر قومی اور علاقائی معادلے کا بنیادی اصول ہے۔ قومی ارادہ ان عوام سے جنم لیتا ہے جو دہشت گرد صیہونی ریاست کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنی قیمتی جانیں قربان کر رہے ہیں، نہ کہ ایسی طاقت سے جو لبنان، اس کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف سازشیں کر رہی ہے۔

شیخ احمد قبلان نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری کی ضمانت دینے والا ہتھیار فروخت یا قابلِ سودے بازی نہیں ہے۔ انہوں نے لبنانی حکام سے کہا کہ یا تو وہ اپنے وطن کے مالک ہیں یا صیہونی دہشت گردوں کے سرپرستوں کے غلام ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان صرف اللہ کا بندہ رہے گا، صیہونی لبنان کبھی نہیں بنے گا اور ملک کی قومی خودمختاری کی کنجیاں کسی کے حوالے نہیں کی جائیں گی۔

مفتی جعفری لبنان نے کہا کہ جو شخص امریکہ پر بھروسا کرتا ہے، وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی دوا کے ڈبے میں زہر خرید رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کو جھوٹی ہمدردی اور ’’مگرمچھ کے آنسوؤں‘‘ سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں اللہ، مزاحمت، لبنانی فوج اور اپنی قومی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور ہم لبنان کی خودمختاری کے دفاع کی عظیم جدوجہد جاری رکھیں گے۔

خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوچکا ہے؛ ہرمز کا محاذ لبنان کے قومی محاذ کا حصہ ہے

شیخ احمد قبلان نے کہا کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوچکا ہے اور آج کا امریکہ ماضی کے امریکہ سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا محاذ، جہاں ایران کامیاب ہے، لبنان کے قومی محاذ کا بھی ناقابلِ جدا حصہ ہے۔ ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل علاقائی جنگ کو ایران کی اسٹریٹجک کامیابی میں تبدیل ہونے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی وضاحت یا جواز کی ضرورت ہے تو وہ ناجائز صیہونی وجود کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ مزاحمت کے اس ہتھیار کے لیے جس نے لبنان کو صیہونی قبضے سے نجات دلائی، جبکہ 1982ء اور اس کے بعد واشنگٹن نے پوری قوت کے ساتھ تل ابیب کی حمایت کی۔

مفتی جعفری لبنان نے کہا کہ جو کچھ صیہونی ریاست امریکی اور نیٹو ہتھیاروں کے وسیع ذخیرے کے باوجود میدان میں حاصل نہیں کرسکی، وہ امریکی سفارتخانہ سودے بازی کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف واضح اور دوٹوک ہے: لبنان اور اس کی خودمختاری آزاد اور خودمختار ہتھیاروں کے ذریعے محفوظ ہے۔ خطے میں رونما ہونے والے واقعات نے لبنان کو مشرق وسطیٰ کے معادلے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جو واشنگٹن اور تل ابیب کے اندازوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

شیخ احمد قبلان نے خبردار کیا کہ جو شخص امریکی سفارتخانے کی ہدایات پر عمل کرے گا، وہ خود کو وطن سے محروم پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گا، کیونکہ لبنان ہی ہمارا سب سے بڑا وطن ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha