10 ستمبر 2026 - 18:16
ایرانی میزائل اور ڈرون طاقت کے مقابلے میں لندن غیر محفوظ ہے

برطانوی دارالعوام کی دفاعی کمیٹی نے خلیج فارس میں برطانیہ کی فوجی کارکردگی اور تیاری کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ تحقیقات حالیہ جنگ کے دوران لندن کی فوری فوجی ردعمل کی صلاحیت اور ایرانی میزائل و ڈرون حملوں کے مقابلے میں برطانیہ کی دفاعی کمزوریوں کے بارے میں پارلیمانی خدشات کے بعد شروع کی گئی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی دارالعوام کی دفاعی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں برطانیہ کی فوجی کارکردگی اور تیاری کا جائزہ لے گی، خصوصاً حالیہ جنگ کے دوران لندن کی ردعمل کی صلاحیت کے بارے میں سامنے آنے والے حقائق پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

برطانوی کمیٹی خاص طور پر یہ جاننا چاہتی ہے کہ خطے میں برطانیہ کی فوجی تعیناتی اس نوعیت کے ممکنہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار اور مضبوط ہے۔

تحقیقات کے باضابطہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں حالیہ بحرانوں، بالخصوص حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ برطانیہ اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ یورو اٹلانٹک خطے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی کمیٹی کی جانب سے طے کیے گئے سوالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحقیقات کا ایک اہم حصہ جنگِ رمضان کے دوران برطانیہ کی فوجی صلاحیت میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لینے سے متعلق ہے۔

برطانوی کمیٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا برطانیہ کے پاس بحران کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے کافی فوجی قوت موجود ہے اور خطے میں حالیہ پیش رفت نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی لندن کی فوری صلاحیت کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

برطانوی دارالعوام کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ تان ڈسی نے حالیہ جنگ کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان واقعات نے برطانوی فوج اور اس کے علاقائی شراکت داروں پر براہ راست دباؤ ڈالا ہے اور خطے میں لندن کی دفاعی تعیناتی کی تیاری، مضبوطی اور پائیداری کے بارے میں اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ حالیہ جنگ نے برطانیہ کی فوجی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے بارے میں کیا حقائق سامنے لائے ہیں۔

یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع کی جارہی ہیں جب ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت پہلے ہی برطانوی پارلیمان کی اعلیٰ سطح پر برطانیہ کی دفاعی حدود کے حوالے سے تشویش پیدا کرچکی ہے۔

برطانوی دارالعوام کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ نے گزشتہ فروردین میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک اجلاس میں ایران کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ لندن کی جانب سے خطے میں حتیٰ کہ بحریہ کا ایک جنگی جہاز بھی فوری طور پر روانہ نہ کر پانا ’’شرمناک‘‘ تھا۔

اسی اجلاس میں دفاعی کمیٹی کے سربراہ نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے برطانیہ میں مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی عدم موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا تھا کہ میزائل حملے کی صورت میں برطانیہ اپنے دفاع کے لیے کیا کرے گا۔

اب کئی ماہ گزرنے کے بعد دفاعی کمیٹی نے انہی سوالات کے بارے میں باضابطہ اور وسیع تحقیقات شروع کردی ہیں۔ کمیٹی نے دستاویزات اور ماہرین کی آرا حاصل کرنے کے لیے 13 نومبر تک کی مہلت مقرر کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ تحقیقات کا نتیجہ برطانیہ کی فوجی طاقت اور لندن کی دفاعی صلاحیت پر مرکوز ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha