9 ستمبر 2026 - 16:08
برطانوی وزیر خارجہ کا نیتن یاہو پر جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسلی صفائی کا الزام

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب اور مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی نسلی صفائی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت آبادکاروں کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اور لندن ان حالات پر خاموش نہیں رہے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی فلسطین پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران جنگی جرائم کے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں۔

ملی بینڈ نے کہا کہ غزہ میں نیتن یاہو کی حکومت کی کارروائیاں عالمی ضمیر کے لیے باعثِ شرم ہیں اور ایسے شواہد میں اضافہ ہورہا ہے جو جنگی جرائم کے ارتکاب کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی نسلی صفائی جاری ہے اور ان کارروائیوں میں اسرائیلی آبادکار ملوث ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیلی حکومت اکثر آبادکاروں کے ان اقدامات پر آنکھیں بند کیے رکھتی ہے، جبکہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان ایسے بیانات اور اقدامات کرچکے ہیں جو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں۔

ملی بینڈ نے واضح کیا کہ برطانیہ ان اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

رپورٹ کے مطابق غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لندن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ اس سے قبل بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری میں توسیع اور متنازع E1 آبادکاری منصوبے پر سخت ردعمل دے چکا ہے۔ 19 اگست کو لندن نے اس منصوبے کے خلاف احتجاجاً اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے منگل کے روز مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا۔ ان پابندیوں کے تحت اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ ان بستیوں کی تعمیر، مالی معاونت، بنیادی ڈھانچے اور جائیداد کے کاروبار میں ملوث کمپنیوں اور افراد کو بھی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

برطانیہ نے ان بستیوں میں موجود جائیدادوں کی فروخت اور تشہیر پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملی بینڈ نے برطانوی پارلیمنٹ میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کو ’’نسلی صفائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت ان اقدامات پر ’’آنکھیں بند‘‘ کیے ہوئے ہے۔

برطانیہ کے ان اقدامات پر اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے اعلان کیا کہ برطانوی پابندیوں کے جواب میں مشرقی بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانے کو 30 دن کے اندر بند کیا جائے گا اور وہاں تعینات برطانوی سفارت کاروں کی سفارتی حیثیت ختم کردی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں قائم رابطہ مرکز میں سرگرم برطانوی حکام اور رام اللہ میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کو بھی سات روز کے اندر وہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha