اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار ’’معاریو‘‘ کے سیاسی تجزیہ کار ران ادلیست نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل میں انتہاپسند دائیں بازو کی سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے حملوں میں، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں، مسلسل شدت آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں مارپیٹ، لوٹ مار اور قتل تک کے واقعات شامل ہیں اور ان کارروائیوں میں ’’اخلاقیات کا کوئی تصور موجود نہیں‘‘۔
ادلیست کے مطابق اس صورتِ حال کے اثرات صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل کو پہنچنے والا نقصان ’’تزویراتی اور عالمی‘‘ نوعیت کا ہے۔
معاریو کے تجزیہ کار نے بیرونی پابندیوں کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیتن یاہو حکومت پر عالمی دباؤ مزید بڑھے گا اور یہ دباؤ اندرونی احتجاج کے ساتھ مل کر جنگ پسندانہ پالیسیوں، بالخصوص مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اقدامات، کو روکنے کا سبب بنے گا۔
انہوں نے بدعنوانی، تشدد اور اندرونی بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیل کی موجودہ صورتِ حال کو ایک ایسے نظام سے تشبیہ دی جو تیزی سے زوال کا شکار ہے۔ ان کے بقول، ’’جہاں بھی کوئی پتھر اٹھائیں، نیچے بچھو ملتا ہے۔‘‘
ادلیست نے مزید کہا کہ بحرانوں اور اسکینڈلز کا ایک ایسا سلسلہ موجود ہے جو حکومت کی برطرفی کے مطالبے کے لیے کافی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے آخر میں نیتن یاہو کو ’’انکار کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم ذرائع ابلاغ میں مسلسل نمایاں رہنے اور مختلف سیاسی و سکیورٹی اقدامات پیش کرنے کے ذریعے میڈیا کے بیانیے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مبینہ کامیابیوں کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل بالآخر نیتن یاہو کی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ