اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہاآرتص کے سیاسی تجزیہ کار سامی پرتس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین سکیورٹی ناکامی کو صرف اس سوال تک محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 7 اکتوبر کی صبح انہیں حماس کے حملے سے بروقت آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق، اس بیانیے کے ذریعے حماس کو مضبوط بنانے اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے سے متعلق نیتن یاہو کی پالیسیوں میں ان کے کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سامی پرتس نے سابق اسرائیلی حکام کے بیانات اور رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر سے قبل کئی برسوں کے دوران نیتن یاہو کو حماس کے خطرے کے بارے میں متعدد مرتبہ خبردار کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اس وقت کے وزیرِ جنگ آویگدور لیبرمین نے حماس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ 2019ء میں اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شاباک کے سربراہ نے قطر سے حماس کے عسکری ونگ تک مالی امداد پہنچنے کے حوالے سے بھی خبردار کیا تھا، تاہم ہاآرتص کے مطابق نیتن یاہو نے اس سلسلے کو روکنے کی مخالفت کی۔
تجزیہ کار نے 2023ء کے دوران اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی جانب سے دی جانے والی متعدد وارننگز کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے اور اسرائیل کی دفاعی روک تھام کی صلاحیت کمزور ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آیزنکوت نے بھی فوج کی کمزوری اور اس کے ممکنہ نتائج سے متعلق خبردار کیا تھا، جبکہ سابق وزیراعظم یائیر لاپڈ نے 7 اکتوبر کے حملے سے صرف دو ہفتے قبل اسرائیل کے کئی محاذوں پر جنگ کی جانب بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
سامی پرتس نے لکھا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد نیتن یاہو صدمے اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہوئے، تاہم ان کے بقول، جس معاملے نے وزیراعظم کو فوری ردعمل پر مجبور کیا وہ سکیورٹی انتباہات نہیں بلکہ یائیر لاپڈ کی جانب سے ہنگامی حکومت تشکیل دینے کی تجویز تھی، جس میں ایتامار بن گویر اور بتسلئیل اسموتریچ کو شامل نہ کیا جائے۔
ہاآرتص کے تجزیہ کار نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھا کہ نیتن یاہو ہمیشہ جس معاملے کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس رہے ہیں، وہ اسرائیل کی سکیورٹی نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی بقا اور مستقبل ہے۔
آپ کا تبصرہ