1 ستمبر 2026 - 15:52
شیخ الخطیب: امام موسیٰ صدر سے وفاداری جنوبی لبنان میں ریاست کے قیام سے ثابت ہوگی

لبنان کی مجلسِ اعلیٰ اسلامی شیعیان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے امام موسیٰ صدر کی 48ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ ان کی فکر اور میراث سے حقیقی وفاداری کا تقاضا ہے کہ جنوبی لبنان کو آزاد کرایا جائے، بے گھر افراد کو ان کے گھروں میں واپس لایا جائے، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی جائے اور ملک میں ایک مضبوط، عادل اور جامع ریاست قائم کی جائے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی مجلسِ اعلیٰ اسلامی شیعیان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے امام موسیٰ صدر کی 48ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ ان کی فکر اور میراث سے حقیقی وفاداری کا تقاضا ہے کہ جنوبی لبنان کو آزاد کرایا جائے، بے گھر افراد کو ان کے گھروں میں واپس لایا جائے، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی جائے اور ملک میں ایک مضبوط، عادل اور جامع ریاست قائم کی جائے۔

شیخ علی الخطیب نے امام موسیٰ صدر، شیخ محمد یعقوب اور سید عباس بدرالدین کے 48 برس قبل لاپتا ہونے کی یاد میں کہا کہ امام موسیٰ صدر ایک فکری، انسانی اور قومی رہنما تھے، جنہوں نے مکالمے، مزاحمت اور محروم طبقات کی حمایت کو اپنی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امام موسیٰ صدر نے لبنان کے خلاف اسرائیلی خطرات سے ابتدائی طور پر خبردار کیا اور اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کو قومی ذمہ داری قرار دیا۔ ان کے مطابق مزاحمت کا مقصد داخلی اختلافات کو بڑھانا نہیں بلکہ ملک کی سرزمین، خودمختاری اور قومی اتحاد کا دفاع ہونا چاہیے۔

شیخ الخطیب نے کہا کہ امام موسیٰ صدر لبنان میں سیاسی طائفیت کو محض مذہبی تنوع نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس وقت اسے مسئلہ قرار دیتے تھے جب اسے سیاسی مفادات، امتیازی سلوک اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ وہ تمام لبنانی شہریوں کے مساوی حقوق اور شرکت پر مبنی ایک مضبوط و عادل ریاست کے قیام کے حامی تھے۔

انہوں نے امام موسیٰ صدر کی فکر کے اہم اصولوں میں قومی اتحاد، اسلامی و مسیحی مکالمہ، سماجی انصاف، محرومیوں کا خاتمہ، متوازن علاقائی ترقی اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کو شمار کیا۔

شیخ علی الخطیب نے کہا کہ موجودہ حالات میں امام موسیٰ صدر سے وفاداری کا عملی ثبوت جنوبی لبنان کی آزادی، متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو، شہریوں کی واپسی، لبنان کی خودمختاری کے تحفظ، معاشی و سماجی بحرانوں کے خاتمے اور ایک مضبوط و عادل ریاست کی تشکیل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امام موسیٰ صدر صرف ایک فرقے کے رہنما نہیں بلکہ پورے لبنان کے لیے ایک جامع قومی منصوبے کے علمبردار تھے، اور ان کی فکر آج بھی ملک کے سیاسی و سماجی حالات میں اہمیت رکھتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha