31 اگست 2026 - 15:32
خلیجی ممالک کا واشنگٹن کو پیغام؛ ایران کے خلاف معاشی جنگ ’’حقیقت پسندانہ نہیں‘‘

ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں کے درمیان خلیج فارس کے بعض عرب ممالک نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں اور معاشی دباؤ کی پالیسی زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔ خلیجی ممالک کے مطابق ایران سے جغرافیائی قربت، اقتصادی روابط اور خطے کے موجودہ حالات کے باعث اس پالیسی کے اثرات سے خود پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عرب میڈیا ادارے رائے الیوم نے مغربی سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خلیج فارس کے بعض ممالک کے حکام نے امریکی حکام کو بتایا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے اور معاشی جنگ مسلط کرنے کی امریکی حکمت عملی ’’حقیقت پسندانہ نہیں‘‘ اور خطے کے ممالک اس کے ممکنہ نتائج کو آسانی سے برداشت نہیں کرسکتے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر سمیت بعض خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکی محکمہ خزانہ کی نئی پابندیوں اور اقدامات کی مکمل حمایت کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔

رائے الیوم کے مطابق خلیجی ممالک کا یہ مؤقف صرف معاشی مفادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور امریکی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ سلامتی اور علاقائی اثرات بھی اہم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض خلیجی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بحران کے حل کے لیے سفارتی راستے مزید محدود ہوسکتے ہیں۔

رائے الیوم نے مزید لکھا ہے کہ بعض ممالک، خصوصاً قطر، امریکی پابندیوں کے بعض اقدامات پر عمل درآمد سے گریز کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک ایسی پالیسی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطے میں بحران کو مزید طول دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے عرب ممالک ایک جانب امریکا کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ اپنے جغرافیائی، اقتصادی اور علاقائی تعلقات کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔

رائے الیوم کے مطابق خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران پر انتہائی دباؤ کی پالیسی کا بوجھ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات خود خطے کے ممالک کو بھی برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں؛ اسی لیے بعض عرب حکومتوں نے واشنگٹن کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha