اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سعودی عرب نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے سخت نئے قوانین نافذ کیے ہیں، جن کے تحت آزادانہ طور پر کام کرنے والے تارکینِ وطن کو بھاری جرمانے، قید اور ملک بدری کی سزا دی جا سکتی ہے۔
سعودی وزارت داخلہ اور محکمہ پاسپورٹ کے مطابق، آزادانہ طور پر کام کرنے والے تارکینِ وطن پر 50 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ، 6 ماہ تک قید اور ملک بدری کی کارروائی کی جائے گی۔ سعودی حکام کے مطابق اس طرح کا کام رہائش، ملازمت اور سرحدی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
نئے ضوابط کے تحت خلاف ورزی کی تکرار کے مطابق سزاؤں کا تعین مرحلہ وار کیا گیا ہے:
پہلی مرتبہ: 10 ہزار سعودی ریال جرمانہ اور ملک بدری۔
دوسری مرتبہ: 25 ہزار ریال جرمانہ، ایک ماہ قید اور ملک بدری۔
تیسری مرتبہ اور اس کے بعد: 50 ہزار ریال جرمانہ، 6 ماہ قید اور ملک بدری۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا اطلاق صرف خلاف ورزی کرنے والے کارکن تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایسے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون، بشمول انہیں ملازمت فراہم کرنا، غیر قانونی کام میں سہولت فراہم کرنا، نقل و حمل، رہائش فراہم کرنا یا ان کی سرگرمیوں کو چھپانا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ تعاون کی صورت میں جرمانہ 100 ہزار ریال اور قید کی مدت 6 ماہ تک بڑھ سکتی ہے۔
اختتام/ 167
آپ کا تبصرہ