اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانسیسی روزنامے لوموند نے اپنے اداریے میں مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے امریکی حکومت کے ریکارڈ کو انتہائی منفی قرار دیا ہے۔
لوموند نے لکھا کہ مشرق وسطیٰ ہمیشہ امریکی صدور کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم میدان رہا ہے، تاہم ٹرمپ کے معاملے میں خطے کی حالیہ صورتحال نے ان کی حکومت کے فیصلوں میں کمزوری اور عدم استحکام کو نمایاں کر دیا ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ حکومت نے دو سال سے بھی کم عرصے میں کئی ناکامیوں اور ایسے فیصلوں کا سامنا کیا جن کے ممکنہ نتائج کا پہلے سے درست اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔
لوموند نے بالخصوص ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس جنگ کا نتیجہ واشنگٹن کے اس مقصد کے برعکس نکلا جس کے تحت وہ امریکی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ بالآخر یہ جنگ آبنائے ہرمز کے بحران، امریکا کی پسپائی اور تہران کے ساتھ معاہدے پر منتج ہوئی۔
فرانسیسی اخبار کے مطابق خلیجی عرب ممالک کا دباؤ اور امریکی اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات بھی ٹرمپ کے دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کے فیصلے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لوموند نے امریکی پسپائی کو خطے کے سکیورٹی ضامن کی حیثیت سے واشنگٹن کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خطے میں امریکا کے روایتی سکیورٹی نظام پر اعتماد میں کمی کی علامت قرار دیا۔
فلسطین کے معاملے پر بھی لوموند نے ٹرمپ کو تعطل کا شکار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ اسرائیل کو حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کے وسیع علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کے انتظامات پر عمل درآمد کے لیے آمادہ نہیں کر سکے۔ اخبار کے مطابق اس صورتحال نے غزہ کی تعمیر نو کے اس منصوبے کی راہ میں بھی رکاوٹ ڈال دی ہے جس کی ٹرمپ پہلے حمایت کر چکے ہیں۔
لوموند نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں اور املاک پر حملوں کے حوالے سے بھی واشنگٹن کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اخبار کے مطابق امریکا نے ان اقدامات کی سنگینی پر توجہ دینے میں تاخیر کی، جبکہ اسرائیل کی سیاسی اور فوجی حمایت بدستور جاری رکھی۔
آپ کا تبصرہ