اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سارا نیبس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد وسیع پابندیوں کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہیے اور اس صورتِ حال کو معمول بننے سے روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم کیا گیا ہے، جبکہ خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اس صورتِ حال کا برقرار رہنا اور عالمی برادری کی جانب سے اسے نظرانداز کرنا آنے والی نسلوں کے لیے ناقابلِ تلافی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
سارا نیبس نے افغان خواتین کی ذہنی صحت سے متعلق اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جائزے میں شامل تقریباً 70 فیصد خواتین نے اپنی ذہنی حالت کو خراب یا انتہائی خراب قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ بحران خواتین پر عائد منظم پابندیوں کا براہِ راست نتیجہ ہے اور عالمی برادری کو اس کے انسانی اثرات پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال کو معمول سمجھ لینا نہ صرف افغانستان کی نصف آبادی کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ مثبت تبدیلی کی امید کو بھی کمزور کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے مختلف ممالک اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عملی حمایت میں اضافہ کریں اور افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی محرومیوں کو ایک ایسی حقیقت بننے سے روکیں جسے دنیا بالآخر قبول کر لے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں اور خواتین و لڑکیوں کی زندگی پر عائد متعدد پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
آپ کا تبصرہ