اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیت برائن کراسن شٹائن نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس وقت استعفیٰ دیا جب انہیں معلوم ہوا کہ ٹرمپ نے انہیں ایسے طیارے میں چھوڑ دیا تھا جسے امریکی صدر ممکنہ حملے کا ہدف سمجھ رہے تھے۔
یہ دعویٰ اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ ترکیہ کے دورے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خفیہ کارروائی کے تحت ان کے مرکزی طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔ یہ اقدام ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ متعدد حکام اور میڈیا ارکان پہلے طیارے میں ہی موجود رہے۔
نیویارک ٹائمز کے فوٹوگرافر ڈگ ملز، جو پہلے طیارے میں موجود تھے، نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طیارے میں موجود مسافروں کو درپیش صورتحال ایسی تھی کہ وہ لاعلمی میں ممکنہ طور پر ’قربانی کا چارہ‘ بن سکتے تھے۔
تاہم، ترجمان کے استعفے اور مذکورہ واقعے کے درمیان تعلق سے متعلق یہ دعویٰ فی الحال سیاسی کارکن کے بیان تک محدود ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
آپ کا تبصرہ