اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سماجی بہبود کی ماہر شیری افرامی نے اسرائیلی فوج میں خودکشی کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے ہاآرتص میں شائع اپنے مضمون میں لکھا کہ فوجی سروس کے دوران، سروس مکمل کرنے کے بعد اور فوجی خدمات سے پیدا ہونے والے حالات کے نتیجے میں فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے کی ایک دہائی کے دوران فوج میں خودکشی کے واقعات میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا، جسے ان کے مطابق فوجی حکام کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا تھا، تاہم جنگ کے دوران صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔
افرمی کے مطابق گزشتہ ماہ فوج میں خدمات انجام دینے والے چار فوجیوں اور ایک سابق فوجی نے خودکشی کی، جبکہ رواں ماہ بھی دو حاضر سروس فوجیوں اور ایک سابق فوجی نے اپنی زندگی ختم کرلی۔
انہوں نے کہا کہ خودکشی کے واقعات کے بارے میں کھل کر بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ خودکشی کی روک تھام ممکن ہے اور اس کے لیے ذہنی پریشانی کی علامات کو پہچاننے اور ان سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق خودکشی کے بارے میں ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں گفتگو کرنے سے ایسے واقعات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
شیری افرامی نے ایک ایسے سابق فوجی کا بھی ذکر کیا جس نے رواں ماہ خودکشی کی۔ ان کے مطابق وہ ’’تنہا فوجی‘‘ تھا، یعنی ایسا شخص جو اپنے خاندان کے بغیر اسرائیل آیا اور فوج میں شامل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عام حالات میں بھی ایسے فوجی کے لیے فوجی سروس انتہائی مشکل ہوتی ہے، کیونکہ اسے خاندان کی جذباتی اور عملی مدد حاصل نہیں ہوتی، جبکہ جنگ کے حالات نے اس مشکل میں مزید اضافہ کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے ساتھ جب ہتھیاروں تک آسان رسائی بھی شامل ہوجائے تو صورتحال جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے افرامی نے بتایا کہ 2019 سے تنہا فوجی مجموعی فوجی تعداد کا صرف 2 فیصد ہیں، لیکن فوج میں ہونے والی مجموعی خودکشیوں میں ان کا حصہ 10 فیصد رہا ہے، یعنی ان کی مجموعی تعداد کے تناسب سے پانچ گنا زیادہ۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں یہ بات زیادہ تسلیم کی گئی ہے کہ خودکشی کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عوامل میں مہلک ذرائع تک آسان رسائی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق فوجیوں کو خطرناک ہتھیاروں تک سب سے زیادہ رسائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے ذہنی پریشانی کی علامات کی شناخت اور مناسب ردعمل کی تربیت کے ساتھ مہلک ذرائع تک رسائی محدود کرنا بھی خودکشیوں کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
افرمی نے کہا کہ شدید جنگی حالات کے برعکس موجودہ صورتحال میں ہر وقت اور ہر جگہ ہتھیار لے کر چلنا ضروری نہیں۔ ان کے مطابق عوامی اور غیر فوجی مقامات کے علاوہ خطرے سے دوچار فوجیوں کے گھروں میں بھی ہتھیاروں کی موجودگی کم کی جاسکتی ہے، جبکہ فوجی اڈوں میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی حفاظت و نگہداشت کے حوالے سے سخت ضوابط اختیار کرکے انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
اسرائیلی ماہر نے آخر میں کہا کہ خودکشی کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات وسیع حلقے کی صورت میں خاندان اور معاشرے تک پھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ اہلکار بھی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مسلسل ضروریات کے شدید دباؤ میں ہیں اور انہیں بھی مدد اور توجہ کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ خودکشی کے واقعات کو روکا جاسکے۔
آپ کا تبصرہ