اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے ایک بیان میں کہا کہ یمنی عوام کے خلاف جارحیت جاری رہنے کے باوجود مذاکراتی وفد مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ موجودہ صورت حال کے بارے میں یمن کا مؤقف واضح کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے بحری جہازوں، یمن کے اندر موجود سعودی افواج اور ان کے فوجی اڈوں کے خلاف یمنی مسلح افواج کی کارروائیاں سعودی عرب کی مسلسل جارحیت، خصوصاً صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملے کے جواب میں کی جارہی ہیں اور یہ ایک جائز ردعمل ہے۔
محمد عبدالسلام نے کہا کہ صنعاء نے چار سال تک جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے معاہدے کی پابندی کی اور سعودی عرب کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی، لیکن سعودی فریق نے اس جنگ بندی کو یمنی عوام پر اقتصادی اور معاشی دباؤ بڑھانے اور انہیں کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے الحدیدہ بندرگاہ جانے والے بحری جہازوں کی سخت تلاشی اور معائنے کے ذریعے یمن کی ناکہ بندی مزید سخت کردی ہے اور ان جہازوں کی آمد میں کئی ماہ کی تاخیر کرکے یمنی عوام پر اقتصادی دباؤ بڑھایا ہے۔
عبدالسلام کے مطابق، بینکوں، کرنسی ایکسچینج مراکز اور تاجروں کو بھی ایسے فیصلوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جو سعودی عرب میں موجود بعض افراد کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین، اخراجات میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث یمنی شہریوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
یمنی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے کہا کہ صنعاء نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، بلکہ مذاکرات سے انکار سعودی فریق کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول، سعودی عرب کا یہ رویہ ریاض کی جانب سے پرامن حل کی حمایت کے حالیہ بیانات سے بھی متصادم ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے مذاکرات سے گریز کو ’’وقت ضائع کرنے‘‘ کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ ریاض اس دوران اپنی ’’سازشوں اور فوجی تیاریوں‘‘ کو مکمل کرنا چاہتا ہے تاکہ یمن کو بدامنی اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کی طرف دھکیلا جاسکے۔
عبدالسلام نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج یمن کی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کے دفاع اور سعودی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قومی ذمہ داری ادا کرتی رہیں گی، یہاں تک کہ یمنی عوام کے تمام حقوق حاصل ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری رابطوں اور مشاورت کے پیش نظر یمن کے مستقبل سے متعلق کسی بھی سیاسی عمل کا نتیجہ یمنی عوام کے جائز حقوق کی تکمیل کی صورت میں نکلنا چاہیے۔
محمد عبدالسلام نے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو کھولنے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، تیل و گیس کی برآمدات بحال کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو یمن کے تمام شہریوں کو عوامی خدمات فراہم کرنے کے لیے مختص کرنے کو یمنی عوام کے اہم انسانی مطالبات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبات یمن کے مستقبل کے سیاسی نقشۂ راہ میں بھی شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ