اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم ہونے اور غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بغداد میں امریکی سفارتخانے کے عملے کی تعداد کم کرنے اور اس کی سرگرمیوں کو صرف سفارتی امور تک محدود رکھنے کے لیے سیاسی اور پارلیمانی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
عراقی اخبار الاخبار کے مطابق، پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی ایک ایسی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے جس کے تحت حکومت اور وزارت خارجہ کو امریکی سفارتخانے کے سفارتی اور انتظامی عملے کی تعداد کم کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
پارلیمانی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن مختار الیوسف نے کہا کہ امریکی سفارتخانے کے عملے کی تعداد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے تناسب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے سفارتی اصولِ برابری پر عمل درآمد اور بغداد میں امریکی سفارتخانے کے عملے کی تعداد واشنگٹن میں عراقی سفارتخانے کے عملے کے مطابق مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
الیوسف نے واضح کیا کہ اس تجویز کا مقصد امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنا نہیں بلکہ ’’سفارتی نمائندگی کے اصولوں کے دائرے میں تعلقات کو ازسرنو منظم کرنا‘‘ ہے۔
دوسری جانب تحریک النجباء نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سفارتخانہ عراق میں موجود دیگر سفارتخانوں کی طرح کام کرے اور اسے ایک ’’بڑے سکیورٹی اور فوجی شہر‘‘ میں تبدیل نہ کیا جائے۔ تحریک نے عراق کے اقتصادی اور سیاسی امور میں امریکی اثر و رسوخ ختم کرنے اور ملک میں امریکہ کی ہر شکل میں موجودگی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کتائب حزب اللہ کی سیاسی شاخ حقوق تحریک نے بھی بتایا ہے کہ امریکی سفارتخانے کے عملے کی تعداد اور اس کے زیر استعمال رقبے میں کمی کے لیے پارلیمانی اور عوامی سطح پر اقدامات جاری ہیں۔ تحریک نے کہا کہ امریکی سفارتخانے کی سرگرمیاں صرف سفارتی امور تک محدود ہونی چاہئیں اور اسے عراق کے داخلی فوجی، اقتصادی اور سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔
الاخبار کے مطابق، بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانے کا کمپلیکس تقریباً 42 ہیکٹر رقبے پر قائم ہے اور اسے دنیا میں امریکہ کے سب سے بڑے سفارتی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سفارتخانے کی وسیع سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی سرگرمیوں نے اسے عراق میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کے لیے ایک مرکز بنا دیا ہے۔
سکیورٹی اور سیاسی امور کے محقق علی صبحی نے بھی امریکی سفارتخانے کے عملے کی تعداد کم کرکے اسے ضروری بنیادی عملے تک محدود کرنے کو دونوں ملکوں کے تعلقات کی نئی تعریف کے لیے ایک قدم قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفارتخانے کی امریکی سرگرمیاں سفارتی دائرے سے آگے بڑھ چکی ہیں اور ان میں انٹیلی جنس سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور فوجی اہلکار اور سازوسامان بھی شامل ہیں۔
تاہم علی صبحی نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کا مطلب عراق اور امریکہ کے تعلقات ختم کرنا نہیں ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی مشترکہ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی مفادات موجود ہیں۔
دوسری جانب ’’یومِ حاکمیت‘‘ کی ایک تقریب کے دوران امریکی پرچم کو روندے جانے کے واقعے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ عراق کے وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔
عراقی حکام نے اس اقدام میں ملوث قرار دیے جانے والے بعض افراد کی گرفتاری کی بھی اطلاع دی اور بغداد کے سفارتی قوانین اور بین الاقوامی سفارتی روایات کی پابندی کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ کا تبصرہ