9 اگست 2026 - 17:01
یمن: سعودی عرب اتحاد اور عالمی حمایت کے پیچھے چھپ کر جواب دہی سے نہیں بچ سکتا

یمن کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر یمن کی خودمختاری اور آزادی کے معاملے میں دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا اتحاد سازی، بیانات اور پراکسی فورسز کے استعمال کا حربہ اسے یمن کے خلاف اقدامات پر جواب دہی سے نہیں بچا سکتا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ان معاہدوں اور حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں شمار کیا جن پر عمل درآمد کا وہ خود مطالبہ کرتی ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے 2015 سے یمن پر سعودی عرب کے فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 13 جولائی 2026 کو صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملہ بھی یمن کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں کی ایک مثال ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی عرب کی مالی معاونت کے باعث بعض حکومتیں اس کے اقدامات کے مقابلے میں ہمدردانہ اور حمایت پر مبنی مؤقف اختیار کرتی ہیں۔

صنعاء نے سلامتی کونسل پر فلسطینی عوام کے تحفظ سے متعلق اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا اور سوال کیا کہ ممالک پر قبضے، ان کے وسائل کی لوٹ مار اور عوام کے حقوق سلب کرنے کو اقوام متحدہ کے منشور اور معاہدوں سے کیسے ہم آہنگ قرار دیا جاسکتا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کے طاقتور ممالک کی رکنیت کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر اس کے بعض مستقل ارکان خود جنگوں اور فوجی تنازعات میں ملوث ہوں تو عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اس ادارے سے مؤثر کردار کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے پراکسی فورسز کو متحرک کرنا، بیانات جاری کرنا یا نئے اتحاد تشکیل دینا اسے جواب دہی سے نہیں بچا سکے گا۔

صنعاء نے مزید دعویٰ کیا کہ یمن کے حوالے سے عالمی پالیسی بین الاقوامی قانون کے مطلوبہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی اور یمنی عوام ان اقدامات کو سیاسی دباؤ اور اپنے جائز حقوق نظرانداز کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha